معاشی بحران،تجاویز اورایک خواب

اس میں کوئی دورائے نہیں کہ ہماراپیاراملک پاکستان اس وقت مشکل معاشی حالات سے گزررہاہے۔ حکومت پاکستان کواس وقت معاشی چیلنجز کاسامناہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے اورملکی کرنسی کی بے قدری اورآئی ایم ایف کے معاہدوں کی وجہ سے حکومت کوپٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ جیسے مشکل فیصلے کرناپڑے ہیں۔ اگرچہ حکومت ملک کومعاشی بحران سے نکالنے کے لیے بھرپورکوششیں کررہی ہے۔ وفاقی حکومت، سندھ اورکے پی کے کی حکومتوں نے بالترتیب سرکاری ملازمین کے پٹرول کے کوٹہ میں بالترتیب ۰۴،۰۴اور۵۳ فیصد کمی کی ہے۔ اس سے وفاقی اورصوبائی حکومتوں کے پٹرول کے اخراجات میں کمی آئے گی۔ ہم نے ایک خواب بھی دیکھ رکھاہے جوہم اسی تحریرمیں بتائیں گے۔لیکن اس سے پہلے ہمارے ذہن میں چندایسے مشورے پائے جاتے ہیں جن کے بارے میں ہم سمجھتے ہیں کہ ان مشوروں پرعمل کرنے کی صورت میں ملک کومعاشی بحران سے نہ صرف اس وقت نکالاجاسکتاہے بلکہ مستقبل میں بھی کسی بھی ایسے خطرے یاصورت حال کاسدباب بھی کیاجاسکتاہے۔

اس بات سے توسب کااتفاق ہے کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا اور ملک کاتجارتی خسارہ کم نہیں ہوگا اس وقت تک ملک کی کرنسی کی ویلیومیں اضافہ مشکل ہے۔ جب تک کرنسی کی قدر میں اضافہ نہیں ہوگا۔اورجب تک عالمی مارکیٹ میں تیل کی پیداوارمیں اضافہ اورقیمتوں میں کمی نہیں ہوتی اس وقت تک پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہیں کی جاسکتی۔ جب تک پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی نہیں ہوتی اس وقت تک ملک میں مہنگائی میں کمی نہیں ہوسکتی۔ ملک کاتجارتی خسارہ کم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ برآمدات میں اضافہ اوردرآمدات میں کمی کی جائے۔حکومت پہلے ہی تین درجن کے زائد چیزوں کودرآمدکرنے پر پابندی لگارکھی ہے۔ درآمدی بل میں کمی لانے کے لیے ہمیں ملک میں پٹرول،ڈیزل کے استعمال کوممکنہ حدتک کم کرناہوگا۔ اس کے لیے بسوں، ویگنوں، کاروں اورموٹرسائیکلوں کوبجلی پرمنتقل کرناہوگا۔ اس سے پٹرول اورڈیزل کے استعمال میں نہ صرف کمی ہوگی بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔اس کے ساتھ ساتھ جس طرح انرجی سیور الیکٹرک اشیاء بنائی جارہی ہیں۔ اسی طرح پٹرول اورڈیزل سیورگاڑیاں،موٹرسائیکل اور رکشے بھی بنائے جائیں۔اگروفاقی اورصوبائی حکومتیں مناسب سمجھیں توایسے سرکاری ملازمین کوموٹرسائیکلوں پردفترآتے ہیں یاموٹرسائیکلوں پرفیلڈ میں کام کرتے ہیں انہیں بجلی سے چلنے والے موٹرسائیکل استعمال کرنے کی ہدایت کی جائے۔اس سلسلہ میں وفاقی اورصوبائی حکومتیں سرکاری ملازمین کی ممکنہ طورپرمعاونت بھی کریں۔ملک کومعاشی بحران سے نکالنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک میں سودکے لین دین پرمکمل پابندی لگائی جائے۔ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے۔ اسلام میں سودکی سخت ترین ممانعت ہے۔ تمام بینکوں میں سودکے لین دین پرپابندی لگادی جائے۔ اس کے علاوہ کرکٹ اورسگریٹ پربھی جلدسے جلدپابندی لگائی جائے۔ایک کمیشن بناکراس بات کاجائزہ لیاجائے توسب کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں گی کہ اب تک کرکٹ پرتنخواہوں،مراعات اورمیچز پرقوم کا کتنا سرمایہ خرچ ہواہے اوراس کے بدلہ میں پاکستان کوکتنافائدہ یانقصان ہواہے۔جب بھی کرکٹ کامیچ ہوتاہے اکثرلوگ اپنے کام،کاروبار،مصروفیات چھوڑ کرمیچ دیکھنے میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ سگریٹ ہماری جسمانی اورمعاشی صحت کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ زیادہ نہیں توپانچ سال کے لیے کرکٹ اور سگریٹ پرپابندی لگائی جائے۔ قوی امیدہے کہ اس پابندی کے ایسے بہترنتائج سامنے آئیں گے کہ اس وقت کی حکومتیں اس پابندی کوبرقراررکھنے میں دل چسپی لیں گی۔جب تک ملک میں معاشی بحران ختم نہیں ہوتا، جب تک ملک کوقرضوں کی ضرورت نہیں رہتی اس وقت تک سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی زیادہ سے زیادہ حد ایک لاکھ روپے متعین کی جائے۔سرکاری ملازمین کوان کی سرکاری ذمہ داریوں میں استعمال کے علاوہ فری پٹرول،ڈیزل اوربجلی کی فراہمی معاشی حالات بہترہونے تک روک دی جائے۔ دیہاتوں ڈیزل انجن کی جگہ سولرٹیوب ویلز اوربجلی کی موٹریں لگانے کی ترغیب دی جائے۔خواب سچے بھی ہوتے ہیں اورجھوٹے بھی۔ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے حالات سے آگاہی ہوتے ہیں۔ خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے راہنمائی بھی ہوتے ہیں۔

جوخواب ہم نے دیکھ رکھاہے ہمیں یقین ہے کہ وہ سچاخواب ہے۔وزیراعظم شہبازشریف اس خواب پرتوجہ دیں توملک کومعاشی بحران سے نکالنے میں مددمل سکتی ہے۔ جس دن قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد کام یاب ہوئی اس سے دوروزپہلے راقم الحروف نے ایک خواب دیکھا،راقم الحروف قومی نوعیت کے خواب پہلے بھی دیکھ چکاہے جوسچ ثابت ہوئے ہیں۔ راقم الحروف نے جس روز قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتمادکام یاب ہوئی اس سے دودن پہلے جوخواب دیکھا ہے وہ یہ ہے کہ پنجاب میں سوناکے ایسے ذخائردریافت ہوئے ہیں جواس سے پہلے اس سے بڑے سونے ذخائرپہلے دریافت نہیں ہوئے۔اوریہ ذخائردوبئی تک جارہے ہیں۔ جس علاقہ سے یہ ذخائردریافت ہوئے ہیں وہ علاقہ لودھراں کاہے۔ راقم الحروف نے باربار غورکیاہے ہرباریہی علاقہ ہی ذہن میں آتاہے۔ اب یہ وزیراعظم شہبازشریف تحقیقات کراسکتے ہیں اورتلاش کراسکتے ہیں کہ لودھراں یاپنجاب کے کسی اورعلاقے میں واقعی سونے کے ایسے اوروسیع ذخائرموجود ہیں جوابھی تک دریافت نہیں ہوئے یاکوئی ایسی قیمتی دھات، چیزپائی جاتی ہے جوابھی تک دریافت نہیں ہوئی جس کی قیمت سونے کے برابرہے۔ مستقبل میں دریافت ہونے والے ذخائرسونے کے ہوں یاکسی اوردھات یاچیزکے اس کاسب سے بڑے خریداردبئی سے آئیں گے۔ یہ ذخائرپاکستان خود تلاش کرے کسی اورملک کویہ ذمہ داری نہ دی جائے۔ پاکستان کے موجودہ معاشی بحران کاذمہ دارامریکابھی ہے بلکہ یہ کہاجائے کہ اس بحران کاامریکاہی ذمہ دارہے توغلط نہ ہوگا۔پہلے وہ ایف سولہ کی قیمت پیشگی وصول کرکے طیارے پاکستان کودینے میں کئی سال تک ٹال مٹول سے کام لیتارہا۔ اب وہ پاکستان کوکولیشن سپورٹ فنڈز کی رقم نہیں دے رہا۔ کولیشن سپورٹ فنڈز کی یہ وہ رقم ہے جوپاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خرچ کرچکاہے۔ وزیراعظم شہبازشریف کوامریکاسے کولیشن سپورٹ فنڈزکی رقم کامطالبہ کرناچاہیے اوراپنایہ حق وصول کرنے کے لیے ہرممکن فورم پرآوازبھی اٹھانی چاہیے۔ پاکستان کویہ رقم مل جائے تومزیدقرض لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

محمدصدیق پرہار

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔