مسلسل زلزلے ہیں چشمِ نم میں

مسلسل زلزلے ہیں چشمِ نم میں
قیامت کروٹیں لیتی ہے غم میں
عقیدوں کے پہن کر پاک چھلّے
بھٹکتی پھر رہی ہوں میں حرم میں
سفر تھوڑا بھی ہم طے کر نہ پائے
ذرا سا فاصلہ تھا تم میں ہم میں
مرے گھر سے تری دہلیز تک تو
بجی تھیں پائلیں ہر ہر قدم میں
ابھی تک یاد ہے اس کی وجاہت
ملا تھا جو مجھے پچھلے جنم میں
ٹھٹھک جاتی ہوں اکثر لکھتے لکھتے
ابھر آتے ہیں دو نینا ں قلم میں
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے