موسیقی کی حرمت

موسیقی کی حرمت
دو حقیقی واقعات کو ایک کہانی کی شکل میں لکھنے کی پہلی اور چھوٹی سی کوشش…! مقصد صرف اور صرف اصلاح ہے پہلے اپنی ذات کی اور پھر تمام امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی.. !
وہ ایک شام اپنے گھر کی چھت سے مغرب کی نماز کے بعد مین روڈ پر دوڑتی تیز رفتار گاڑیوں کو دیکھ رہی تھی کہ اچانک اسے ایک واقعہ یاد آیا وہ واقعہ کچھ یوں تھا کہ ایک دفعہ چار نوجوان ایک گاڑی میں سوار جارہے تھے ان کی گاڑی میں بہت تیز آواز میں گانے چل رہے تھے وہ چاروں ہی موسیقی کی دھنوں میں مدہوش دو عالم سے بے پرواہ اور موسیقی کی اترتی چڑھتی دھنوں پر ایک رقص کے عالم میں اس قدر مدہوش تھے کہ وہ نہ صرف گاڑی میں موجود ایک دوسرے کی ذات کو بلکہ وہ خود اپنی ذات کو بھول بیٹھے تھے وہ اس قدر مدہوش تھے کہ وہ یہ بھی بھول گئے کہ وہ ایک گاڑی میں بند ہے اور گاڑی 250 کی رفتار سے مین روڈ پر مین روڈ کی سڑکوں پر رواں ہے ان کی گاڑی کی رفتار اس حد تک بڑھ گئی اور وہ موسیقی کی دھنوں میں اس حد تک محو ہوگئے کہ انہیں اندازہ نہ ہوسکا اور ان کی گاڑی ایک ٹرک میں جا لگی چاروں میں سے دو کی اس ہی وقت روح پرواز کر گئی اور دو کو قدرت نے ایک موقع دیا اور انہیں بروقت اسپتال پہنچایا گیا جب وہ آئی سی یو میں تھے اور بہت سیریس حالت میں تھے اس وقت ڈاکٹر ان کے پاس کھڑے ہوکر انہیں کلمہ پڑھانے کی حتی الامکان کوشش کر رہے تھے ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ وہ بار بار ان کو کہہ رہے تھے کہ پڑھو:
لا الہ اللہ محمد رسول اللہ..
لیکن افسوس صد افسوس کہ ان کی زبان پر اس وقت کی موسیقی کے الفاظ جاری تھے کیونکہ وہ دھنیں اور وہ الفاظ ان کے دل و دماغ پر کچھ اس طرح سوار ہوگئی تھیں کہ وہ اب اپنے ہی اعضاء پر بے بس و بے اختیار ہو چکے تھے..
ڈاکٹر کی بے انتہا کوششوں کے باوجود ان کی زبانیں ان خوبصورت کلمات
لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ
سے محروم رہیں اور ڈاکٹر سمیت تمام ہی ساتھیوں کی بےپناہ کوششوں کے باوجود وہ دونوں دوست
لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ
ادا نہیں کرسکے اور خالق حقیقی سے جا ملے اس کے برعکس ایک اور حادثہ ایک ایسی ہی تیز رفتار گاڑی میں موجود دو دوستوں کے ساتھ پیش آیا اور جب انہیں اسپتال پہنچایا گیا تو ان کی زبان پر وہ تلاوت خوبصورت انداز میں قرآن کی آیات رواں تھیں جو وہ دوران سفر سن رہے تھے اور ڈاکٹرز یہ دلفریب اور دلکش منظر دیکھتے ہوئے بے حد حیران تھے کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ کسی کو بغیر یاد دلائے اور بغیر کہے قرآن کی تلاوت ان کی زبان سے انتہائی دلکش اور خوبصورت انداز میں کوئی نزع کے عالم میں قرآن کی تلاوت کرے..
اور ڈاکٹرز عینی شاہد تھے اس بات کے کہ ان دونوں کی روح تلاوت کرتے ہوئے ہی پرواز کر گئی اور وہ دونوں انتہائی پروقار انداز میں خالقِ حقیقی سے جاملے..
بلا شبہ عرش پر ان کا زور و شور سے خیر مقدم ہوا ہوگا..
یہ دو حقیقت پر مبنی کہانیاں ہیں جنہیں الفاظ کا لبادہ اڑایا گیا ہے اور مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ انسان کا خاتمہ ایمان پر اس ہی صورت ممکن ہو سکتا ہے جب وہ اپنی زندگی اللہ کے بتائے ہوئے اصول و قوائد اور ان شرائط پر گزارے جو کہ قرآن اور حدیث میں بتائی گئی ہیں اور وہی اعمال کیے جائیں جن کے کرنے کا حکم آیا ہے اور ہر اس عمل سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے جس سے روکا گیا ہے.. !
امر بالمعروف و نہی المنکر
کی تعمیل کی جائے…!
اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کی آنکھیں وقت پر کھل جائیں اس سے پہلے کہ ہمیں دیر ہوجائے کیونکہ گزرا وقت کبھی کسی کے ہاتھ نہ آیا ہے اور نہ کبھی آئے گا.
دعا ہے کہ اللہ ہم سب کو خالص کرلیں اور ہم سب کا خاتمہ ایمان پر ہو اور جنت الفردوس میں ایک بات پھر ہم اکٹھے ملیں آمین..!
بریرہ خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے