موسم بھی نیا اب کے ٹھکانے بھی نئے ہیں

موسم بھی نیا اب کے ٹھکانے بھی نئے ہیں
کچھ دل کے دھڑکنے کے بہانے بھی نئے ہیں
کچھ اپنی کہانی کو نئے موڑ کی خواہش
کچھ اس کی نگاہوں کے فسانے بھی نئے ہیں
اس حسن سے منسوب ہیں حیرت کے کرشمے
وہ پوچھے تو حالات پرانے بھی نئے ہیں
کیا لوٹ کے آئے ہیں سرِ شہرِ تمنا
چہرے ہی نہیں اب کے زمانے بھی نئے ہیں
کچھ رات کے پہلو میں بھی خوشبو کی خبر ہے
کچھ خواب سعید اپنے سرہانے بھی نئے ہیں
کس قدر تجھ کو تری ذات سے ہٹ کر سوچا
حد تو یہ ہے تجھے اوروں سے لپٹ کر سوچا
محو ہو کر تری خوشبو کے گماں میں اکثر
ہم نے صدیوں کو بھی لمحوں میں سمٹ کر سوچا
عشق بنیاد میں شامل تھا سدا سے اپنی
دل کے محور سے نہ ہم نے کبھی ہٹ کر سوچا
فکر کب شور کے پہلو میں نمو پاتی ہے
سوچنے والوں نے آشوب سے کٹ کر سوچا
ہر تعلق میں ترا نقش ابھر آتا ہے
ہم نے جب بھی کسی مورت سے لپٹ کر سوچا
ہم نے ہجرت کی لہو رنگ سحر سے پہلے
جانے کیا کیا تیری بانہوں میں سمٹ کر سوچا
بارہا کر دیا حالات نے مسمار سعید
اپنی قامت سے نہ ہم نے کبھی گھٹ کر سوچا
سعید خان

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے