موضوعِ گفتگو تری تقریر ہو گئی​

موضوعِ گفتگو تری تقریر ہو گئی​
پیدا زبانِ خلق میں تاثیر ہو گئی​

اے سعیِ پردہ درایء احوال مرحبا​
کس کس معاملے کی نہ تشہیر ہو گئی​

بُھولے سے آنکھ بھر کے اُسے دیکھ کیا لیا​
وہ زلفِ راہگیر، عناں گیر ہو گئی​


فیاضی و سخاوت وانعام و التفات​
یہ مملکت تو آپ کی جاگیر ہو گئی​

کیا ہو اُسے شعورؔ تجھے دیکھنے کا شوق​
شعروں سے آئنہ تری تصویر ہو گئی​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے