موج دِین

موج دِین

رات کی تاریکی میں سنٹرل جیل کے دو وارڈن بندوق لیے چار قیدیوں کو دریا کی طرف لیے جارہے تھے جن کے ہاتھ میں کدالیں اور بیلچے تھے۔ پُل پرپہنچ کر انہوں نے گارد کے سپاہی سے ڈبیا لے کر لالٹین جلائی اور تیز تیز قدم بڑھاتے دریا کی طرف چل دیے۔ کنارے پر پہنچ کر انہوں نے بارہ دری کی بغل میں کدالیں اور بیلچے پھینکے اور لالٹین کی مدھم روشنی میں اس طرح تلاش شروع کی جیسے وہ کسی مدفون خزانے کی کھوج میں آئے ہیں۔ ایک قیدی نے لالٹین تھامے وارڈن کو داروغہ جی کے نام سے مخاطب کرتے ہوئے کہا۔

’’داروغہ جی! یہ جگہ مجھے بہت پسند ہے اگر حکم ہو تو کھدائی شروع کردیں۔ ‘‘

’’دیکھنا۔ زمین نیچے سے پتھریلی نہ ہو، ورنہ ساری رات کھدائی میں گزر جائے گی۔ کم بخت کو مرنا بھی رات ہی کو تھا۔ ‘‘

وارڈن نے تحکمانہ اور بیزاری کے لہجے میں کہا۔ قیدیوں نے کدالیں اور بیلچے اُٹھائے اور کھودنا شروع کیا۔ وارڈن بیزاری کے موڈ میں بیٹھے سگریٹ پی رہے تھے۔ قیدی زمین کھودنے میں ہمہ تن مصروف تھے۔ رفتہ رفتہ زمین پر کھدی ہوئی مٹی کا ڈھیر لگ گیا اور وارڈن نے قریب آکر قبر کا معائنہ کیا۔ زمین چونکہ پتھریلی نہیں تھی۔ اس لیے وہ بڑے اطمینان کے ساتھ قریب ہی ایک پتھر پر بیٹھا سگریٹ پینے لگا۔ جسے لگانے کے لیے اس نے لالٹین منگائی۔ کھدائی قریب قریب ختم ہوچکی تھی۔ وارڈن دو قیدیوں کو لیے جیل کی جانب چلا گیا اور بیس منٹ کے وقفے کے بعد کمبل میں لپٹی ہوئی قیدی کی لاش لے کر واپس آیا۔ دوسرا وارڈن جب تک سلیں جمع کر کے لایا تھا۔ ایک قیدی نے جو قتل کے جُرم کی پاداش میں سزا کاٹ رہا تھا۔ کُدالیں اور بیلچے اُٹھائے اور قبر کے سرہانے چند قدم ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔ وارڈن نے بہت ہی برہم لہجے میں اس کی طرف دیکھ کر کہا۔

’’او اُلّو کے پٹھے اپنے ابا کو لحد میں اُتارنے میں ان کی مدد کر‘‘

قیدی نے ملتجیانہ لہجے میں کہا۔

’’داروغہ جی! لالٹین پکڑتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ اس معصوم اور بے گناہ کو ایک قاتل کے ہاتھ چھو جائیں۔ ‘‘

وارڈن یہ سُن کرگرجا

’’بے گناہ کے بچے۔ جاسوس کو معصوم کہتا ہے۔ ‘‘

قاتل نے کہا۔

’’داروغہ جی! میں قاتل ہوں۔ یہی احساس مجھے اس قیدی کی لاش چھونے سے روکتا ہے۔ ‘‘

’’جاسوس‘‘

دفنایا جا چکا تھا۔ قیدی اور وارڈن جا چکے تھے۔ صبح آٹھ بجے پولیس کی معیت میں ڈپٹی کمشنر قبر پر آیا۔ جیل کے حکام کے بیانات لیے گئے اور ڈپٹی کمشنر صاحب عدالت تشریف لے گئے۔ پیشی کی پہلی مِسل جو اُٹھائی گئی، اس پر سرکار بنام موج دین لکھا تھا۔ اردلی نے تین مرتبہ کمرہ عدالت سے باہر نکل کر بلند آواز میں تین بار پکارا۔ بلکہ یوں کہیے کہ للکارا۔

’’سرکار بنام موج دین۔ موج دین۔ موج دین ہے؟‘‘

لیکن یہ آواز بدقسمتی سے اُس جا سوس قیدی کی قبرتک نہ پہنچ سکی۔ یا اگر پہنچی بھی ہو تو وہ تعمیل کے لیے نہ آیا۔ شاید یہ سمجھ کر کہ وہ اب ڈپٹی کمشنر کے قانون کی زد سے بہت دُور جا چکا ہے۔ اس جگہ جہاں کوئی اور قانون چلتا ہے۔ جہاں ڈپٹی کمشنر کے سمن کی بھی تعمیل نہیں ہوسکتی۔ ملزم چونکہ غیرحاضر تھا، اس لیے ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر نے عدم حاضری ملزم کارروائی یک طرفہ کے لیے مِسل اٹھائی اورریڈر سے جرم کی نوعیت دریافت کی۔

’’جاسوسی‘‘

منشی نے نمبر ا کی کارروائی لکھتے ہوئے کہا۔

’’ملزم رات کو سنٹرل جیل میں فوت ہو چکا ہے۔ مِسل داخلِ دفتر کردی جائے۔ ‘‘

ڈپٹی کمشنر نے حکم دیا۔

’’جاسوس‘‘

کی سنٹرل جیل میں موت کی خبر شہر بھر میں اس لیے مشہور ہو گئی کہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور پولیس کے افسروں نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ آزاد کشمیر حکومت کے نیک سیرت افسروں کی ہر طرف سے داد و تحسین دی جارہی تھی۔ مجھے جب اس واقعہ کا علم ہوا تو مجھے ایک مہینہ پہلے کی ایک شام یاد آئی جب کہ میں دارالحکومت کے ایک ہوٹل میں بیٹھا ڈاک گاڑی کا انتظار کررہا تھا۔ جس کے ذریعے سے میرے مرمت شُدہ جوتے راولپنڈی سے آنے والے تھے۔ گاڑی آنے میں خلافِ معمول دیر ہوئی۔ میں قریب قریب اٹھنے ہی والا تھا کہ ایک گہرے سانولے رنگ کے آدمی نے جس کی عمر تیس برس کے لگ بھگ تھی۔ مجھے اپنی طرف متوجہ کیا۔

’’آپ بُوت ٹَیم سے بیٹھا کسی کا انتظار کرتا ہے؟‘‘

اس نے مُسکراتے ہوئے استفسار کیا۔

’’بھئی عجیب مصیبت ہے۔ جوتا پھٹ جائے مظفر آباد میں، تو مرمت کے لیے راولپنڈی بھیجنا پڑتا ہے۔ یا اگر کوئی ڈرائیور مہربان ہو تو اسی کے ہاتھ بھیج دیتے ہیں۔ آج میں اپنے مرمت شدہ جوتوں کے انتظار میں تین گھنٹے سے بیٹھا ہوں اور کم بخت ڈاک گاڑی بھی آج ہی لیٹ ہوئی ہے۔ خیر کل سہی۔ ‘‘

میں یہ کہہ کر اُٹھنے لگا تو اس نے مجھے چند منٹ مزید انتظار کرنے کے لیے کہا۔ میں اس اجنبی صورت کو دیکھتا رہا۔ جس کی آنکھوں میں اضطراب تھا۔ جس کے ہونٹ کچھ کہنے کے لیے بے تاب تھے۔ وہ بیڑی پر بیڑی پِیے جارہا تھا۔ اور میرے سامنے والی کرسی پر بیٹھا باربار باہر خلا میں دیکھتا تھا۔ میں ڈاک گاڑی کے انتظار میں ہر ایک ہارن پر کان دھرتا۔ وقت گزارنے کے لیے میں نے اس سے پوچھا۔

’’آپ یہاں کیا کررہے ہیں؟‘‘

’’ہم بیٹھا ہے‘‘

اس نے انتہائی سادگی سے جواب دیا۔

’’نہیں، میرا مطلب ہے یہاں آپ کا کیا کاروبار ہے‘‘

’’کاروبار کچھ نہیں کرتا، کشمیر دیکھنے کا شوق تھا، چلا آیا۔ ‘‘

’’آپ کہاں سے آئے ہیں؟‘‘

’’لاہور سے۔ لیکن میں مشرقی پاکستان کا ہوں، لاہور میں دینیات کی تعلیم پڑھتا ہوں۔ ‘‘

مجھے گفتگو کے دوران میں اس نے بتایا کہ وہ جس ادارے میں زیرِ تعلیم ہے، خیراتی ادارہ ہے، جہاں کے اربابِ اعلیٰ رسید بُک چھاپ کر زیرِ تعلیم کم عمر بچوں کو چندے کی فراہمی کے لیے دوسرے شہروں میں بھیج دیتے ہیں۔ وہ چونکہ کم عمر بچہ نہ تھا۔ اس لیے اس کو بڑی مشکلوں کے بعد

’’سفیر‘‘

بن کر آزاد کشمیر میں چندہ جمع کرنے کی اجازت مل گئی۔ اس کی باتوں میں سادگی تھی۔ محض کشمیر دیکھنے کے شوق میں اس نے

’’سفارت‘‘

حاصل کی تھی۔ اس نے یہ بھی بتا دیا کہ یتیم خانوں کے نام پر

’’بِھک منگوں‘‘

کا نام اداروں نے سفیر رکھا ہے۔ جمع شدہ چندہ ان کی جیبوں میں جاتا ہے اور

’’سفیر‘‘

کا گزارہ چڑھاوے کی دیگوں یا محلے والے کی خیرات پر ہوتا ہے۔ دینیات کی تعلیم مساجد میں دی جاتی ہے۔ مجھے اس کی باتیں سن کربہت دکھ ہوا۔ واقعی وہ ہمدردی کے قابل تھا۔ اس نے مجھے بتایا کہ وہ اس شہر میں نیا ہے اور کسی مسجد کا پتا بھی نہیں جانتا جہاں وہ رات بسر کرسکے۔ میں نے مسجد کا پتا دیا اور اس کے لیے روٹی منگوائی۔ وہ چونکہ بھوکا تھا، اس نے بِلا تکلف بجائے روٹی کے سادہ چا ول کے لیے بیرے سے کہا۔

’’ہم لاہور کی مسجد میں بھی لوگوں کا دیا کھاتے ہیں۔ اس لیے ادھر بھی ہم نے انکار نہیں کیا۔ ‘‘

اس نے انتہائی سادگی سے کہا۔ وہ کھانا کھا چکا تھا۔ مجھ سے اجازت لے کر اس نے جیب سے لکھنے کے لیے پنسل اور کاغذ نکالا۔ اوراپنے گھروالوں کو بنگلہ زبان میں خط لکھنے لگا۔ میں جب تک فرمائشی گانے سنتا رہا۔ خط لکھنے کے بعد اس نے مجھ سے معافی مانگی اور کہا کہ

’’میں نے گھر والوں کو لکھا کہ میں آزاد کشمیر آیا ہوں۔ اب یہیں رہوں گا۔ اگر پاکستان نے ہندوستان کے خلاف جہاد شروع کیا تو میں بھی اس میں حصّہ لوں گا اور کشمیر کو آزاد کراؤں گا۔ ‘‘

میں نے جواب میں ہندی مقبوضہ کشمیر کی خوبصورتی کا ذکر کیا۔ کشمیری مسلمانوں پربھارتی ظلم و استبداد بیان کیا، جس سے وہ اور زیادہ متاثر ہوا۔

’’پھر ہم لاہور واپس نہیں جائے گا۔ کل ان کو بھی خط لکھے گا۔ جہاد شروع ہونے تک ادھر ہی پان بیڑی کی چھابڑی لگائے گا۔ ‘‘

اس نے فیصلہ کن لہجے میں کہا۔ اتنی دیر میں ڈاک گاڑی آئی اور میں وہاں سے اُٹھ کر لاریوں کے اڈے کی طرف گیا۔ اور وہ میرے بتائے ہوئے راستے سے مسجد کی طرف گیا۔ اپنے جوتے ڈرائیور سے لے کر جب میں گھر کی طرف جارہا تھا تو راستے میں سی آئی ڈی کے ہیڈ کانسٹیبل نے مجھے آواز دی جو میرا واقف کار تھا۔ میں نے رسمی طورپر اس کی خیریت پوچھی۔ وہ مشکوک نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ رسمی باتوں کے بعد اس نے مجھے اس

’’کالے آدمی‘‘

کے متعلق پوچھا کہ وہ کون ہے جو آپ کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھا تھا۔ میں نے مختصراً کہا۔ بھئی بنگالی ہے، آزاد کشمیر دیکھنے کا شوق تھا۔ چلا آیا۔ نام موج دین ہے اور آج رات جامع مسجد میں گزارنے کے لیے گیا ہے۔

’’لیکن وہ تو ہوٹل میں بیٹھا کچھ عجیب و غریب زبان میں خط لکھ رہا تھا۔ مجھے اس پر کچھ شُبہ بھی ہوا۔ ‘‘

ہیڈ کانسٹیبل نے رازدارانہ لہجہ میں کہا۔ وہ عجیب و غریب زبان نہیں۔ اس کی مادری زبان بنگلہ ہے۔ ہاں تمہارے لیے اجنبی ہے۔ اتنے میں میرا مکان قریب آیا اور میں خدا حافظ کہہ کر گھرچلا گیا۔ مجھے یہ معلوم نہ تھا کہ سی آئی ڈی والوں کو دن کی کارگزاری کی رپورٹ دوسرے روز صبح سویرے دفتر میں دینی پڑتی ہے اور اگر رپورٹ نہ دی گئی تو جواب طلبی ہوتی ہے۔ ہیڈ کانسٹیبل صاحب بھی دن کی کار گزاری میں کچھ نہ کچھ دکھانا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے گھر جا کرحکومت کے

’’صدر مقام‘‘

میں ایک غیر ملکی

’’جاسوس‘‘

کی آمد کی رپورٹ اس طرح دی کہ دوسرے روز موج دین، پان فروشی کے لیے چونا کتھا خریدتا ہوا گرفتار کیا گیا۔ پان، چونا، کتھا وغیرہ بھی اس کی جاسوسی کی ایک کڑی بن گئی۔ اور سی آئی ڈی والوں نے مزید رپورٹ دے دی کہ

’’جاسوس‘‘

چونکہ پان کھانے کا عادی ہے، اس لیے یہ سٹاک خرید کر ہماری فوجوں کی پکٹوں کی پوزیشن دیکھنے پہاڑی علاقوں میں جارہا ہے۔ موج دین کا چالان ہوا۔ ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر نے الزامات کی سنگینی کے تحت

’’جاسوس‘‘

کو پندرہ دن کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔ جہاں سے وہ سپیشل سٹاف میں منتقل ہوا۔ پندرہ دن کی میعاد گزر جانے پر ڈپٹی کمشنر صاحب نے مزید ایک ہفتے کے ریمانڈ پر اس کو جوڈیشل(سنٹرل جیل) بھیج دیا۔ وہ ہفتہ بھی گزر گیا اور

’’جاسوس‘‘

ہتھکڑیاں پہنے ڈپٹی کمشنر صاحب کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ جہاں وہ زار وقطار رویا۔ گڑگڑایا، منت سماجت کی، لیکن ڈپٹی کمشنر صاحب نے مزید ایک ہفتے کا ریمانڈ دے کر سنٹرل جیل بھیج دیا۔ سنٹرل جیل میں اس کی آخری رات تھی جب کہ وہ ایک ستون سے بندھا رو رہا تھا، وہی قاتل قیدی جس نے اس کو دفناتے وقت چھونے سے انکارکیا۔ اس کے قریب آیا اور پوچھا۔

’’جاسوس! تم ہر روز کیوں روتے ہو۔ یہ جگہ باہروالوں کی بہ نسبت بہت اچھی ہے۔ یہاں جھوٹ نہیں، مکر نہیں، بے ایمانی نہیں۔ روٹی ملتی ہے۔ اسکے مقابلے میں باہر دیکھو، کون لوگ ہیں۔ جنہوں نے تم ایسے بے گناہ کو بھی یہاں بھیجا، جو اقتدار کے لیے ایک کا نہیں، ہزاروں کا خون بہاتے ہیں جو دن دیہاڑے ڈاکے ڈالتے ہیں‘ جو اپنی ذات کے لیے وہ کام بھی کرتے ہیں جو شیطان بھی کرنے سیگریز کرتا ہے۔ مجھے دیکھو میں نے قتل کیا ہے محض ایک بے بس عورت کے ناموس کے تحفظ کے لیے۔ بہر حال مجھے تم سے ہمدردی ہے۔ اگر تم باہر جا کر خوش ہو تو خدا تمہیں آزاد کرائے گا۔ ‘‘

موج دین نے قیدی کی باتیں سنیں اور بالکل خاموش بیٹھا رہا۔

’’سُنا ہے بنگالی جادو جانتے ہیں۔ تم بھی جادو کے زور سے باہر جاؤ‘‘

قیدی نے موج دین کو بہلانے کے لیے ازراہِ مذاق کہا۔

’’ہاں، میں اس قید سے رہائی کا جادو جانتا ہوں۔ میں آج ہی یہاں سے بھاگ جاؤں گا، بہت دُور، جہاں سے دنیا کی کوئی طاقت مجھے واپس نہیں لاسکتی۔ ‘‘

اتنے میں کھانے کی گھنٹی بجی۔ قیدی اپنی تھالی لیے دال روٹی لینے گیا۔ آدھ گھنٹے کے بعد اچانک جیل کی گھنٹی بجنی شروع ہوئی اور متواتر بجتی رہی۔ داروغہ جیل کئی وارڈنوں کے ساتھ جیل کے احاطہ میں داخل تھا اور

’’جاسوس‘‘

کے گلے سے رسی کا پھندا کھولا جو اس نے خود کشی کے لیے استعمال کیا تھا۔

’’جاسوس‘‘

بھاگ چکا تھا، اس کو رہائی مل گئی تھی۔

’’بنگال کا جادو‘‘

کام آیا تھا۔ موج دین کی لاش کے اردگرد قیدیوں کا ہجوم تھا۔ داروغہ جیل نے چند ایک قیدیوں کو وہاں ٹھہرنے کا حکم دے دیا اور باقی سارے قیدی بارکوں میں چلے گئے۔ موج دین کے چہرے پر اب بھی مُسکراہٹ تھی۔ وہ اس قانون پر مسکرا رہا تھا جس نے اس کو جاسوس بنا کر محبوس کیا تھا۔ ‘‘

سعادت حسن منٹو

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے