محبتوں كی سفیر شاعرہ

محبتوں كی سفیر شاعرہ
میرے تكیے كے پاس پڑی كتابوں میں سے ایك كتاب بہت دنوں سے مجھے ناراض نظروں سے دیكھ رہی تھی۔ایك رات بے خیالی میں وہ كتاب میرے ہاتھوں نے تھام لی۔میری آنكھیں كتاب میں موجود لفظوں سے كھیلنے لگیں۔میرے كان ایك مانوس سی نغمگی كے زیراثر آنے لگے اور یوں لگا كہ جیسے میں كسی ایسے شہر میں داخل ہو گٸی ہوں جہاں رنگ اور گیت مل كر مسكرا رہے ہوں۔ریحانہ عثمانی كا نام میرے لٸے اجنبی نہیں ہے۔qalam kitabان كی شاعری كی كتاب صبح نو مجھے تازہ ہوا كے جھونكے جیسی ہی لگی۔ مجھے یاد آتا ہے صبا ممتاز كی كتاب كی تقریب رونماٸی كے دوران ایك سادہ اور پروقار سی شخصیت كی حامل خاتون نے پہلی ہی نظر میں مجھے متاثر كیا۔تقریب رونماٸی تو نجانے كب ختم ہوٸی مگر اس مختصر سے وقت نے مجھے ریحانہ عثمانی سے ملوا دیا۔مجھے لگتا تھا كہ شاید ہم دوبارہ نہ ملیں مگر میرے دل میں یہ خواہش تھی كہ وہ میرے ساتھ رابطے میں رہیں۔ان كے دل تك شاید میرے دل كی آواز پہنچ گٸی۔كچھ ہی عرصے بعد وہ میری تنظیم میں شامل ہوٸیں اور پھر سوات كے ایك یادگار سفر كے بعد ریحانہ آپا سے محبت كا یہ تعلق بہت گہرا ہوتا چلا گیا۔صبح نو بنیادی طور پر سچے جذبوں كی شاعری ہے۔شاعری سے میرا لگاو بہت پرانا ہے۔گو كہ اب شاعری كو میں نے خود سے دور كر ركھا ہے مگر اچھی شاعری ہر بار كسی خوشبو كی طرح مجھے اپنے حصار میں لے لیتی ہے۔میرے لٸے مشكل ہو جاتا ہے كہ میں خود كو اس خوشبو سے محروم كروں۔ریحانہ آپا كی شاعری بھی محبت كے آسمان پر شوخ رنگوں كی شكل میں برستی جا رہی ہے۔ان كی شاعری میں ایك گیت ہے ایك رچاو ہے جو ہمیں ان دنوں بہت كم نظر آتا ہے۔صبح نو ایك گلدستے كی طرح نظموں اور غزلوں كی شكل میں بہت سے دلنشیں پھولوں سے آراستہ ہے۔شاعرات عام طور پر رومانوی انداز كی ہی شاعری كرتی ہیں مگر ریحانہ آپا كے گلدستے میں ہر طرح كا پھول موجود ہے۔آٹھ اكتوبر كا زلزلہ ہو , سانحہ پشاور یا پھر میرے اپنے شہر لاہور كی خوبصورتی كا ذكر ہو.ریحانہ عثمانی نے یوں لگتا ہے تمام تر درد اپنی نظموں میں منتقل كر دیا ہو۔كچھ غزلیں مجھے ركنے پر مجبور كر دیتی ہیں۔
"روٹھنے كے نہ بچھڑنے كے زمانے دیكھے
دل میں رستے ہوے كچھ زخم پرانے دیكھے”
"میں نے چہرے كو جو غازے سے سجا ركھا ہے
روح كے زخموں كو دراصل چھپا ركھا ہے”
صبح نو جیسی شاعری سردیوں كی خوبصورت شاموں كو یادگار بنانے والی شاعری ہے۔كافی اور چاے كی چسكیوں میں پڑھی جانے والی یہ شاعری كسی یادگار تحفے سے كم نہیں ہے۔
"دشت فرقت میں یونہی آبلہ پا رہنے دو
بچھڑے لمحو!مجھے خود سے جدا رہنے دو
تم نہ افسردہ نظر آو كبھی میری طرح
میرے ہونٹوں پر یہی حرف دعا رہنے دو”

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے