محبت کے نہ اب ایثار کے ہیں

محبت کے نہ اب ایثار کے ہیں
یہاں رشتے سبھی بیکار کے ہیں

کسی سے کیا کہیں کہ داغِ الفت
تہِ دامن جو ہیں غم خوارکے ہیں

بنا بولے بنے نا بات کوئی
سبھی جذبے یہاں اظہار کے ہیں

خلوصِ دل سے وہ ملتے نہیں اب
بڑے نخرے مرے دلدار کے ہیں

پسِ پردہ تجھے چاہا ہے ہم نے
ہاں عاشق ہم ترے کردار کے ہیں

سناتے ہیں تمھیں رو رو کے جو ہم
سبھی قصے دلِ بیزار کے ہیں

لگا کے دل سے جن کو جی رہے ہیں
وہ سب دکھ شازیہؔ بیکار کے ہیں

شازیہؔ طارق

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔