محبت کے مزاروں تک چلیں گے

محبت کے مزاروں تک چلیں گے

ذرا پی لیں! ستاروں تک چلیں گے

سنا ہے یہ بھی رسم عاشقی ہے

ہم اپنے غمگساروں تک چلیں گے

چلو تم بھی! سفر اچھا رہے گا

ذرا اجڑے دیاروں تک چلیں گے

جنوں کی وادیوں سے پھول چن لو

وفا کی یادگاروں تک چلیں گے

حسین زلفوں کے پرچم کھول دیجیے

مہکتے لالہ زاروں تک چلیں گے

چلو ساغر کے نغمے ساتھ لے کر

چھلکتی جوئے باراں تک چلیں گے

ساغر صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے