محبت حسنِ کامل ہے

محبت حسنِ کامل ہے

وہ کہتا ہے تمہیں میری
بھلا کیا بات بھائی ہے
نہ ہے رنگت اجالوں سی
نہ ہے صورت مثالوں سی
نہ ہیں لب ہی تراشیدہ
نہ ہی آنکھیں غزالوں سی
اسے کہہ دو مرے جاناں!
محبت حسن سے ہوتی
تو کتنے بت پرست ہوتے
فقط تصویر کش ہوتے
جو اچھا بت بنا لیتا
وہی اس کا خدا ہوتا
محبت صرف جھیل آنکھوں
لبِ لعلیں حسیں قامت
کی قوسوں اور محرابوں
سے آگے جا نہ سکتی تھی
نہ چشمِ شوق میں گرمی
نہ لب پر پیار کی نرمی
نہ باہوں کے حسیں گجرے
نہ دھڑکن چومتی آہٹ
نہ کیف و لمس کا جادو
کہیں پہ معتبر ہوتا
نہ پلکوں میں کوئی لرزش
نہ اشکوں میں اثر ہوتا
فقط پتھر کے بت اوپر
رکھا انسان کا سر ہوتا
ا سے کہہ دو میرے ہمدم!
سماعت منجمد ہوتی
تو تیرے شوخ فقرے پر
نہ میرے گال یوں تپتے
نہ تیرے وصل کے سپنے
میری آنکھوں میں یوں سجتے
محبت اک حسیں بت کی
پرستش کا سِحر ہوتا
سبھی دل بت کدے ہوتے
وفا آزر کا گھر ہوتا
مگر ایسا نہیں ہوتا
مگر ایسا نہیں ہوتا
محبت ایک پارس ہے
جسے چھولے وہی سونا
محبت ایسا کُن ہے جو
زباں سے جب نکل جائے
جہاں سارا بدل جائے
مجھے تو اے مرے جاناں !
تری خواہشوں کے جگنو پر
ستارے وارنا کم ہے
تری پلکوں کی جنبش پر
دل اپنا ہارنا کم ہے
ترے لب پر جو بات آئے
صحیفہ بن کے چھا جائے
میرے جگنو میرے جاناں !
مجھے تو بس ہے یہ کہنا
فسوں گر ہے یا عامل ہے
محبت حسنِ کامل ہے
محبت حسنِ کامل ہے

(شاذیہ اکبر: شعری مجموعہ : محبت حسنِ کامل ہے)

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے