مٹی کی مونا لیزا

مٹی کی مونا لیزا

مونا لیزا کی مسکراہٹ میں کیا بھید ہے؟

اس کے ہونٹوں پر یہ شفق کا سونا، سورج کا جشن طلوع ہے یا غروب ہوتے ہوئے آفتاب کا گہرا ملال؟ ان نیم وا متبسم ہونٹوں کے درمیان یہ باریک سی کالی لکیر کیا ہے؟ یہ طلوع و غروب کے عین بیچ میں اندھیرے کی آبشار کہاں سے گر رہی ہے؟ ہرے ہرے طوطوں کی ایک ٹولی شور مچاتی امرود کے گھنے باغوں کے اوپر سے گزرتی ہے۔ ویران باغ کی جنگلی گھاس میں گلاب کا ایک زرد شگوفہ پھوٹتا ہے۔ آم کے درختوں میں بہنے والی نہر کی پلیا پر سے ایک ننگ دھڑنگ کالا لڑکا ریتلے ٹھنڈے پانی میں چھلانگ لگاتا ہے اور پکے ہوئے گہرے بسنتی آموں کا میٹھا رس مٹی پر گرنے لگتا ہے۔

سینما ہال کے بک سٹال پر کھڑے میں اس میٹھے رس کی گرم خوشبو سونگھتا ہوں اور ایک آنکھ سے انگریزی رسالے کو دیکھتے ہوئے دوسری آنکھ سے ان عورتوں کو دیکھتا ہوں جنہیں میں نے فلم شروع ہونے سے پہلے سب سے اونچے درجوں کی ٹکٹوں والی کھڑکی پر دیکھا تھا۔ اس سے پہلے انہیں سبز رنگ کی لمبی کار میں نکلتے دیکھا تھا اور اس سے پہلے بھی شاید انہیں کسی خواب کے ویرانے میں دیکھا تھا۔ ایک عورت موٹی، بھدی، جسم کا ہر خم گوشت میں ڈوبا ہوا، آنکھوں میں کاجل کی موٹی تہہ، ہونٹوں پر لپ سٹک کا لیپ، کانوں میں سونے کی بالیاں، انگلیوں پر نیل پالش، کلائیوں میں سونے کے کنگن، گلے میں سونے کا ہار، سینے میں سونے کا دل، ڈھلی ہوئی جوانی، ڈھلا ہوا جسم، چال میں زیادہ خوشحالی اور زیادہ خوش وقتی کی بیزاری، آنکھوں میں پرخوری کا خمار اور پیٹ کے ساتھ لگایا ہوا بھاری زرتار پرسدوسری لڑکیالٹرا ماڈرن، الٹرا سمارٹ، سادگی بطور زیور اپنائے ہوئے، دبلی پتلی، سبز رنگ کی چست قمیض، کٹے ہوئے سنہرے بال، کانوں میں چمکتے ہوئے سبز نگینے، کلائی میں سونے کی زنجیر والی گھڑی اور دوپٹے کی رسی گلے میں، گہرے شیڈ کی پنسل کے ابرو، آنکھوں میں پرکار سحرکاری، گردن کھلے گریبان میں سے اوپر اٹھی ہوئی، دائیں جانب کو اس کا ہلکا سا مغرور خم، ڈورس ڈے کٹ کے بال، بالوں میں یورپی عطر کی مہک، دماغ گزری ہوئی کل کے ملال سے نا آشنا، دل آنے والی کل کے وسوسوں سے بے نیاز، زندگی کی بھر پور خوشبوؤں اور مسرتوں سے لبریز جسم، کچھ رکا رکا سا متحرک سا، کچھ بڑبڑاتا ہوا۔ اس دودھ کی طرح جسے ابال آنے ہی والا ہو۔ سر اینگلو پاکستان، لباس پنجابی، زبان انگریزی اور دل نہ تیرا نہ میرا۔

بک اسٹال والا انہیں اندر داخل ہوتے دیکھ کر اٹھ کھڑا ہوا اور کٹھ پتلی کی طرح ان کے آگے پیچھے چکر کھانے لگا۔ اس نے پنکھا تیز کر دیا۔ کیونکہ لڑکی بار بار اپنے ننھے ریشمی رومال سے ماتھے کا پسینہ پونچھ رہی تھی۔ موٹی عورت نے مسکرا کر پوچھا۔

"آپ نے "لک” اور وہ "ٹریو سٹوری” نہیں بھجوائے۔

سٹال والا احمقوں کی طرح مسکرانے لگا۔

"وہ جب اب کے ہمارا مال راستے میں رک گیا ہے۔ بس اس ہفتے کے اندر اندر سرٹنلی بھجوا دوں گا۔” موٹی عورت نے کہا۔

"پلیز، ضرور بھجوا دیں۔”

لڑکی نے فوٹو گرافی کا رسالہ اٹھا کر کہا۔

"پلیز اسے پیک کر کے گاڑی میں رکھوا دیں۔”

بک سٹال والا بولا۔

"کیا آپ انٹرول میں جا رہی ہیں۔”

موٹی عورت بولی۔

"یسپکچر بڑی بور ہے۔”

انہوں نے ساڑھے تین روپے کے ٹکٹ لئے تھے۔ پکچر پسند نہیں آئی۔ لمبی کار کا دروازہ کھول دیا اور کار دریا کی پرسکون لہروں کی طرح سات روپوں کے اوپر سے گزر گئی۔ وہ سات روپے جن کے اوپر سے لوہاری دروازے کے ایک کنبے کے پورے سات دن گزرتے ہیں۔

اور لوہاری دروازے کے باہر ایک گندہ نالہ بھی ہے۔ اگر آپ کو اس کنبے سے ملنا ہو تو اس گندے نالے کے ساتھ ساتھ چلے جائیں۔ ایک گلی دائیں ہاتھ کو ملے گی۔ اس گلی میں سورج کبھی نہیں آیا لیکن بدبو بہت آتی ہے۔ یہ بدبو بہت حیرت انگیز ہے۔ اگر آپ یہاں رہ جائیں تو یہ غائب ہو جائے گی۔ یہاں صغراں بی بی رہتی ہے۔ ایک بوسیدہ مکان کی کوٹھڑی مل گئی ہے۔ دروازے پر میلا چیکٹ بوریا لٹک رہا ہے، پردہ کرنے کے لئے جس طرح نئے ماڈل کی شیور لیٹ کار میں سبز پردے لگے ہوتے ہیں۔ صحن کچا اور نم دار ہے۔ ایک چارپائی پڑی ہے۔ ایک طرف چولہا ہے۔ اوپلوں کا ڈھیر ہے۔ دیوار کے ساتھ پکانے والی ہنڈیا مٹی کا لیپ پھیرنے والی ہنڈیا اور دست پناہ لگے پڑے ہیں۔ ایک سیڑھی چڑھ کر کوٹھڑی کا دروازہ ہے۔ کوٹھڑی کا کچا فرش سیلا ہے۔ در و دیوار سے نم دار اندھیرا رس رہا ہے۔ سامنے دو صندوق ایک دوسرے کے اوپر رکھے ہیں۔ صندوق کے اوپر صغراں بی بی نے پرانا کھیس ڈال رکھا ہے۔ کونے میں ایک ٹوکرا لٹا رکھا ہے۔ جس کے اندر دو مرغیاں بند ہیں۔ دیوار میں دو سلاخیں ٹھونک کر اوپر لکڑی کا تختہ رکھا ہے۔ اس تختے پر صغراں بی بی نے اپنے ہاتھ سے اخبار کے کاغذ کاٹ کر سجائے ہیں اور تین گلاس اور چار تھالیاں ٹکا دی ہیں۔ اندر بھی ایک چارپائی بچھی ہے۔ اس چارپائی پر صغراں بی بی کے دو بچے سو رہے ہیں۔ دو بچے اسکول پڑھنے گئے ہیں۔ صغراں بی بی بڑی گھریلو عورت ہے۔ بالکل آئیڈیل قسم کی مشرق عورت۔ خاوند مہینے کی آخری تاریخوں میں پٹائی کرتا ہے تو رات کو اس کی مٹھیاں بھرتی ہے۔ وہ لات مارتا ہے تو صغراں بی بی اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیتی ہے۔ کہیں خاوند کے پاؤ ں کو چوٹ نہ آ جائے۔ کتنی آئیڈیل عورت ہے یہ صغراں بی بی یقیناً ایسی ہی عورتوں کے سر پر دوزخ اور پاؤں کے نیچے جنت ہوتی ہے۔ خاوند ڈاکیہ ہے۔ ساٹھ روپے کی کثیر رقم ہر مہینے کی پہلی کو لاتا ہے۔ پانچ روپے کوٹھڑی کا کرایہ، پانچ روپے دونوں بچوں کے اسکول کی فیس، بیس روپے دودھ والے کے اور تیس روپے مہینے بھر کے راشن کے باقی جو پیسے بچتے ہیں ان میں یہ لوگ بڑے مزے سے گزر بسر کرتے ہیں۔ کبھی کبھی صغراں بی بی ساڑھے تین روپوں والی کلاس میں بیٹھ کر فلم بھی دیکھ آتی ہے اور اگر پکچر بور ہو تو انٹرول میں اٹھ کر لمبی کار میں بیٹھ کر اپنے گھر آ جاتی ہے۔ بک سٹال والا ہر مہینے انگریزی رسالہ "لک” اور "لائف” اسے گھر پر ہی پہنچا دیتا ہے۔ وہ کھانے کے بعد میٹھی چیز ضرور کھاتی ہے۔ دودھ کی کریم میں ملے ہوئے انناس کے قتلے صغراں بی بی اور اس کے خاوند ڈاکئے کو بہت پسند ہیں۔ کریم کو محفوظ رکھنے کے لئے انہوں نے اپنی کوٹھڑی کے اندر ایک ریفریجریٹر بھی لا کر رکھا ہوا ہے۔ صغراں بی بی کا خیال ہے کہ وہ اگلی تنخواہ پر کوٹھڑی کو ائرکنڈیشنڈ کروا لے کیونکہ گرمی حبس اور گندے نالے کی بدبو کی وجہ سے اس کے سارے بچوں کے جسموں پر دانے نکل آتے ہیں اور رات بھر انہیں اٹھ اٹھ کر پنکھا جھلتی رہتی ہے۔ صغراں بی بی نے ایک ریڈیو گرام کا آرڈر بھی دے رکھا ہے۔

اے۔ حمید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے