مسفٹ

مسفٹ
کبھی کبھی میں سوچتی ہوں
مجھ میں لوگوں کو خوش رکھنے کا ملکہ
اتنا کم کیوں ہے
۔کچھ لفظوں سے۔کچھ میرے لہجے سے خفا ہیں
پہلے میری ماں میری مصروفیت سے
نالاں رہتی تھی
اب یہی گلہ مجھ سے میرے بیٹے کو ہے
رزق کی اندھی دوڑ میں رشتے کتنے پیچھے رہ جاتے ہیں
جبکہ صورتِ حال تو یہ ہے
میرا گھر میرے عورت ہونے کی
مجبوری کا پورا لطف اٹھاتا ہے
ہر صبح میرے شانوں پر ذمہ داری کا بوجھا لیکن
پہلے سے بھاری ہوتا ہے
پھر بھی میری پشت پہ نا اہلی کا کوب
روز بروز نمایاں ہوتا جاتا ہے
پھر میرا دفتر ہے
جہاں تقرر کی پہلی ہی شرط کے طور پہ
خود داری کا استعفی دائر کرنا تھا
میں پتھر بنجر زمینوں میں پھول اگانے کی کوشش کرتی ہوں
کبھی ہریالی دکھ جاتی ہے
ورنہ
پتھر
بارش سے اکثر ناراض ہی رہتے ہیں
مرا قبیلہ
میرے حرف میں روشنی ڈھونڈ نکالتا ہے
لیکن مجھ کو
اچھی طرح معلوم ہے
کس کی نظریں لفظ پہ ہیں
اور کس کی خالق پر
سارے دائرے میرے پاؤوں سے چھوٹے ہیں
لیکن وقت کا وحشی ناچ
کسی مقام نہیں رکتا
رقص کی لے ہر لمحہ تیز ہوئی جاتی ہے
یا تو میں کچھ اور ہوں
یا پھر یہ میرا سیارہ نہیں ہے
پروین شاکر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے