ملتا ہی نہیں درد کا پیکر کوئی مجھ سا

ملتا ہی نہیں درد کا پیکر کوئی مجھ سا
آئینے میں اک شخص ہے کمتر کوئی مجھ سا
ایمان بھی تنہا ہے مرا کفر بھی تنہا
مومن کوئی مجھ سا ہے نہ کافر کوئی مجھ سا
ہے کون جو اس ابر کے پردے میں رواں ہے
دیوانہ ہے دیوانہ سراسر کوئی مجھ سا
کہسار کے دامن میں ملاتا ہے نہاں کون
آواز سے آواز برابر کوئی مجھ سا
لینے نہیں دیتا کسی کروٹ مجھے آرام
اک شخص ہٹیلا مرے اندر کوئی مجھ سا
میں ٹوٹتا تارا ہوں نظر مجھ سے ملا لو
پھر کاہے کو دیکھو گے مکرر کوئی مجھ سا
آئینہ ہوں اور چہرۂ خورشیدؔ پہ وا ہوں
ہوگا کہیں قسمت کا سکندر کوئی مجھ سا
خورشید رضوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے