ملے ہو تم تو سبھی فاصلے مٹا دیں گے

ملے ہو تم تو سبھی فاصلے مٹا دیں گے
تمھاری سوچ سے بڑھ کر تمہیں وفا دیں گے
رہے گا تم کو نہ شکوہ کبھی نصیبوں کا
تمھارے سوئے مقدر کو بھی جگا دیں گے
تم ایک بار ذرا اعتماد کر دیکھو
ہزار خوف تمھارے یونہی مٹا دیں گے
ہر ایک شام کو آنکھیں تمھیں بلائیں گی
دِکھا کے خواب تمھارے اُنھیں سلا دیں گے
تمھارے پیار میں چکھیں گے موت کی لذت
حیات و موت کو معنی نئے سکھا دیں گے
تمھاری ذات کی تنہائیوں کو بانٹیں گے
تمھاری ذات کو ہم انجمن بنا دیں گے
تمھارے نام سے اب ہو گی شاعری ساری
کہیں پہ نظم کہیں پہ غزل بنا دیں گے

شازیہ اکبر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے