ملاوٹ

ملاوٹ

امرتسر میں علی محمد کی منیاری کی دکان تھی‘ چھوٹی سی مگر اس میں ہر چیز موجود تھی‘ اُس نے کچھ اس قرینے سے سامان رکھا تھا کہ ٹھنسا ٹھنسا دکھائی نہیں دیتا تھا۔ امرتسر میں دوسرے دکاندار بلیک کرتے تھے مگر علی محمد واجبی نرخ پر اپنا مال فروخت کرتا تھا ‘ یہی وجہ ہے کہ لوگ دُور دُور سے اس کے پاس آتے اور اپنی ضرورت کی چیزیں خرید کرتے۔ وہ مذہبی قسم کا آدمی تھا‘ زیادہ منافع لینا اس کے نزدیک گناہ تھا‘ اکیلی جان تھی‘ اس کے لیے جائز منافع ہی کافی تھا۔ سارا دن دکان پر بیٹھتا‘ گاہکوں کی بھیڑ لگی رہتی‘ اس کو بعض اوقات افسوس ہوتا جب وہ کسی گاہک کو سنلائیٹ صابن کی ایک ٹکیہ نہ دے سکتا یا کیلی فورنین پوپی کی بوتل‘ کیونکہ یہ چیزیں اسے محدود تعداد میں ملتی تھیں۔ بلیک نہ کرنے کے باوجود وہ خوشحال تھا۔ اُس نے دو ہزار روپے پس انداز کر رکھے تھے ‘ جوان تھا۔ ایک دن دکان پر بیٹھے بیٹھے اُس نے سوچا کہ اب شادی کر لینی چاہیے۔ بُرے بُرے خیال دماغ میں آتے ہیں‘ شادی کر لوں کہ زندگی میں لطافت پیدا ہو جائے گی‘ بال بچے ہوں گے‘ ان کی پرورش کے لیے میں اور زیادہ کمانے کی کوشش کروں گا۔ اس کے والدین عرصہ ہوا‘ اﷲ کو پیارے ہو چکے تھے‘ اس کی کوئی بہن تھی نہ بھائی۔ وہ بالکل اکیلا تھا ‘ شروع شروع میں جبکہ وہ دس برس کا تھا‘ اس نے اخبار بیچنے شروع کیے‘ اس کے بعد خوانچہ لگایا‘ قلفیاں بیچیں‘ جب اس کے پاس ایک ہزار روپیہ جمع ہو گیا تو اس نے ایک چھوٹی سی دکان کرائے پر لے لی اور منیاری کا سامان خرید کر بیٹھ گیا۔ آدمی ایماندار تھا‘ اُس کی دکان تھوڑے ہی عرصے میں چل نکلی۔ جہاں تک آمدن کا تعلق تھا وہ اس سے بے فکر تھا مگر وہ چاہتا تھا گھر بسائے۔ اس کی بیوی ہو‘ بچے ہوں اور وہ ان کے لیے زیادہ سے زیادہ کمانے کی کوشش کرے‘ اس لیے کہ اس کی زندگی مشین ایسی بن گئی تھی ‘ صبح دکان کھولتا‘ گاہک آتے انھیں سودا دیتا‘ شام کو دکان بند کرتا اور ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں جو اس نے شریف پورہ میں لے رکھی تھی‘ سو جاتا۔ گنجے کا ہوٹل تھا اس میں وہ کھانا کھاتا‘ صرف ایک وقت‘ صبح ناشتہ جیمل سنگھ کے کٹڑے میں شابھے حلوائی کی دکان میں کرتا‘ دکان کھولتا اور شام تک اپنی گدی پر بیٹھا رہتا۔ اس کے اندر شادی کی خواہش شدت اختیار کرتی گئی لیکن سوال یہ تھا کہ اس معاملے میں اس کی مدد کون کرے۔ امرتسر میں اس کا کوئی دوست یار بھی نہیں تھا جو اس کے لیے کوشش کرتا۔ وہ بہت پریشان تھا‘ شریف پورہ کی کوٹھڑی میں رات کو سوتے وقت وہ کئی مرتبہ رویا کہ اس کے ماں باپ اتنی جلدی کیوں مر گئے‘ انھیں اور کچھ نہیں تو اس لیے زندہ رہنا چاہیے تھا کہ وہ اس کی شادی کا بندوبست کر جاتے۔ اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ وہ شادی کیسے کرے‘ بہت دیر تک سوچتا رہا‘ اس دوران میں اس کے پاس تین ہزار روپے جمع ہو گئے‘ اس نے ایک چھوٹے سے گھر کو جو اچھا خاصا تھا کرایے پر لے لیا مگر رہتا وہ شریف پورے ہی میں تھا۔ ایک دن اس نے اخبار میں ایک اشتہار دیکھا جس میں لکھا تھا کہ شادی کے خواہشمند حضرات ہم سے رجوع کریں۔ بی اے پاس لیڈی ڈاکٹر ‘ ہر قسم کے رشتے موجود ہیں‘ خط و کتابت کیجیے یا خود آ کے ملیے۔ اتوار کو وہ دکان نہیں کھولتا تھا اُس دن وہ اس پتے پر گیا اور اس کی ملاقات ایک داڑھی والے بزرگ سے ہوئی۔ علی محمد نے مدعا بیان کیا‘ داڑھی والے بزرگ نے میز کا دراز کھول کر بیس پچیس تصویریں نکالیں اور اس کو ایک ایک کر کے دکھائیں کہ وہ ان میں سے کوئی پسند کرے۔ ایک لڑکی کی تصویر علی محمد کو پسند آ گئی‘ چھوٹی عمر کی اور خوبصورت تھی۔ اس نے شادیاں کرانے والے ایجنٹ سے کہا ‘

’’جناب۔ یہ لڑکی مجھے پسند ہے‘‘

ایجنٹ مسکرایا

’’تم نے ایک ہیرا چن لیا ہے‘‘

علی محمد کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ لڑکی اس کی آغوش میں ہے‘ اس نے گٹکنا شروع کر دیا

’’بس۔ جناب آپ بات پکّی کر دیجیے ‘ ایجنٹ سنجیدہ ہو گیا‘ دیکھو برخوردار!۔ یہ لڑکی تم نے چنی ہے‘ علاوہ حسین ہونے کے بہت بڑے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔ لیکن تم سے زیادہ فیس نہیں مانگوں گا‘‘

’’آپ کی بڑی نوازش ہے۔ میں یتیم لڑکا ہوں۔ اگر آپ میرا یہ کام کر دیں تو آپ کو ساری عمر اپنا باپ سمجھوں گا‘‘

ایجنٹ کے مونچھوں بھرے ہونٹوں پر پھر مسکراہٹ نمودار ہوئی‘ جیتے رہو۔ میں تم سے صرف تین سو روپے فیس لوں گا‘ علی محمد نے بڑے متشکرانہ لہجے میں کہا

’’جناب کا بہت بہت شکریہ۔ مجھے منظور ہے‘‘

یہ کہہ کر اس نے جیب سے تین نوٹ سوسو روپے کے نکالے اور اس بزرگوار کو دے دیے۔ تاریخ مقرر ہو گئی‘ نکاح ہوا‘ رخصتی بھی ہوئی‘ علی محمد نے وہ چھوٹا سا مکان کرایے پر لے رکھا تھا‘ اب سجا سجایا تھا‘ وہ اس میں بڑے چاؤ سے اپنی دلہن لے کر آیا‘ پہلی رات کا تصور معلوم نہیں‘ اس کے دل و دماغ میں کس قسم کا تھا مگر جب اس نے دلہن کا گھونگھٹ ہاتھوں سے اُٹھایا تو اس کو غش سا آ گیا۔ نہایت بدشکل عورت تھی۔ صریحاً اس مرد بزرگ نے اس کے ساتھ دھوکا کیا تھا‘ علی محمد لڑکھڑاتا کمرے سے باہر نکلا اور شریف پورے جا کر اپنی کوٹھڑی میں دیر تک سوچتا رہا کہ یہ ہوا کیا ہے لیکن اس کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا۔ اس نے اپنی دکان نہ کھولی۔ دو ہزار روپے وہ اپنی بیوی کا حق مہر ادا کر چکا تھا‘ تین سو روپے اس ایجنٹ کو‘ اب اس کے صرف سات سو روپے تھے۔ وہ اس قدر دل برداشتہ ہو گیا تھا کہ اس نے سوچا شہر ہی چھوڑ دے۔ ساری رات جاگتا رہا اور سوچتا رہا ‘ اس نے فیصلہ کر ہی لیا ‘ صبح دس بجے اس نے اپنی دکان ایک شخص کے پاس پانچ ہزار روپے میں یعنی اونے پونے داموں بیچ دی اور ٹکٹ کٹوا کر لاہور چلا آیا۔ لاہور جاتے ہوئے گاڑی میں کسی جیب کترے نے بڑی صفائی سے اس کے تمام روپے غائب کر دیے‘ وہ بہت پریشان ہوا۔ لیکن اس نے سوچا کہ شاید خدا کو یہی منظور تھا۔ لاہور پہنچا تو اس کی دوسری جیب میں جو کتری نہیں گئی تھی صرف دس روپے اور گیارہ آنے تھے اس سے اس نے چند روز گزارہ کیا لیکن بعد میں فاقوں کی نوبت آ گئی۔ اس دوران میں اس نے کہیں نہ کہیں ملازم ہونے کی بہت کوشش کی مگر ناکام رہا۔ وہ اس قدر مایوس ہو گیا کہ اس نے خودکشی کا ارادہ کر لیا مگر اس میں اتنی جرأت نہیں تھی‘ اس کے باوجود ایک رات وہ ریل کی پٹڑی پر لیٹ گیا‘ ٹرین آ رہی تھی مگر کانٹا بدلا اور وہ دوسری لائن پر چلی گئی کہ اسے ادھر ہی جانا تھا۔ اس نے سوچا کہ موت بھی دھوکا دے جاتی ہے چنانچہ اس نے خودکشی کا خیال چھوڑ دیا اور ہلدی اور مرچیں پیسنے والی ایک چکی میں بیس روپے ماہوار پر ملازمت اختیار کر لی۔ یہاں اسے پہلے ہی دن معلوم ہو گیا کہ دنیا دھوکا ہی دھوکا ہے‘ ہلدی میں پیلی مٹی کی ملاوٹ کی جاتی تھی‘اور مرچوں میں سرخ اینٹوں کی۔ دو برس تک وہ اس چکی میں کام کرتا رہا ‘ اس کا مالک ہر مہینے کم از کم سات سو روپے ماہوار کماتا تھا‘ اس دوران میں علی محمد نے پانچ سو روپے پس انداز کر لیے تھے‘ ایک دن اس نے سوچا جب ساری دنیا میں فریب ہی فریب ہے تو وہ بھی کیوں نہ فریب کرے۔ اس نے چنانچہ ایک علیحدہ چکی قائم کر لی اور اس میں مرچوں اور ہلدی میں ملاوٹ کا کام شروع کر دیا۔ اس کی آمدن اب کافی معقول تھی اس کو شادی کا کئی بار خیال آیا مگر جب اس کی آنکھوں کے سامنے اس پہلی رات کا نقشہ آیا تو وہ کانپ کانپ گیا۔ علی محمد خوش تھا اس نے فریب کاری پوری طرح سیکھ لی تھی‘ اس کو اب اس کے تمام گُر معلوم ہو گئے تھے‘ ایک من لال مرچوں میں کتنی اینٹیں پسنی چاہئیں‘ ہلدی میں کتنی زرد رنگ کی مٹی ڈالنی چاہیے اور پھر وہاں کا حساب‘ یہ اب اس کو اچھی طرح معلوم تھا۔ لیکن ایک دن اس کی چکی پر پولیس کا چھاپہ پڑا‘ ہلدی اور مرچوں کے نمونے بوتلوں میں ڈال کر مہر بند کیے گئے۔ اور جب کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ آئی کہ ان میں ملاوٹ ہے تو اسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس کا لاہور میں کون تھا جو اس کی ضمانت دیتا۔ کئی دن حوالات میں بند رہا۔ آخر مقدمہ عدالت میں پیش ہوا اور اس کو سو روپیہ جُرمانہ اور ایک مہینے کی قید بامشقت کی سزا ہوئی۔ جرمانہ تو اس نے ادا کر دیا لیکن ایک مہینے کی قید بامشقت اسے بھگتنا ہی پڑی‘ یہ ایک مہینہ اس کی زندگی میں بہت کڑا وقت تھا۔ اس دوران میں وہ اکثر سوچتا تھا کہ اُس نے بے ایمانی کیوں کی‘ جبکہ اس نے اپنی زندگی کا یہ اصول بنا لیا تھا کہ وہ کبھی خراب کاری نہیں کرے گا۔ پھر وہ سوچتا کہ اسے اپنی زندگی ختم کر لینی چاہیے ‘ اس لیے کہ وہ اِدھر کا رہا نہ اُدھر کا ‘ اس کا کردار مضبوط نہیں۔ بہتر یہی ہے کہ مر جائے تاکہ اس کا ذہنی اضطراب ختم ہو۔ جب وہ جیل سے باہر نکلا تو وہ مضبوط ارادہ کر چکا تھا کہ خودکشی کر لے گا تاکہ سارا جھنجھٹ ہی ختم ہو۔ اس غرض کے لیے اُس نے سات روز مزدوری کی اور دو تین روپے اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر جمع کیے۔ اُس کے بعد اس نے سوچا ‘ کون سا زہر ہو گا جو کارآمد ہو سکتا ہے۔ اُس نے صرف ایک ہی زہر کا نام سُنا تھا جو بڑا قاتل ہوتا ہے۔ سنکھیا مگر یہ سنکھیا کہاں سے ملتی؟ اُس نے بہت کوشش کی ‘ آخر اُسے ایک دکان سے سنکھیا مل گئی اس نے عشاء کی نماز پڑھی خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی کہ وہ ہلدی اور مرچوں میں ملاوٹ کرتا رہا‘ پھر رات کو سنکھیا کھائی اور فٹ پاتھ پر سو گیا۔ اُس نے سُنا تھا سنکھیا کھانے والوں کے منہ سے جھاگ نکلتے ہیں‘ تشنج کے دورے پڑتے ہیں ‘ بڑا کرب ہوتا ہے مگر اسے کچھ بھی نہ ہوا‘ ساری رات وہ اپنی موت کا انتظار کرتا رہا مگر وہ نہ آئی۔ صبح اُٹھ کر وہ اس دکاندار کے پاس گیا جس سے اس نے سنکھیا خریدی تھی اور اس سے پوچھا بھائی صاحب! یہ آپ نے مجھے کیسی سنکھیا دی ہے کہ میں ابھی تک نہیں مرا‘‘

دکاندار نے آہ بھر کے بڑے افسوسناک لہجے میں کہا :

’’کیا کہوں میرے بھائی۔ آج کل ہر چیز نقلی ہوتی ہے۔ یا اُس میں ملاوٹ ہوتی ہے‘‘

۱۹، مئی ۱۹۵۴ء

سعادت حسن منٹو

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے