مثالِ برگ میں خود کو اڑانا چاہتی ہوں

مثالِ برگ میں خود کو اڑانا چاہتی ہوں
ہوائے تند پہ مسکن بنانا چاہتی ہوں
وہ جن کی آنکھوں میں ہوتا ہے زندگی میں ملال
اسی قبیلے سے خود کو ملانا چاہتی ہوں
جہاں کے بند ہیں صدیوں سے مجھ پہ دروازے
میں ایک بار اسی گھر میں جانا چاہتی ہوں
ستم شعار کی چوکھٹ پہ عدل کی زنجیر
برائے داد رسی اب ہلانا چاہتی ہوں
نجانے کیسے گزاروں گی ہجر کی ساعت
گھڑی کو توڑ کے سب بھول جانا چاہتی ہوں
مسافتوں کو ملی منزلِ طلب نیناں
وفا کی راہ میں اپنا ، ٹھکانہ چاہتی ہو ں
فرزانہ نیناں

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے