میرے گیت تمہارے ہیں

میرے گیت تمہارے ہیں
اب تک میرے گیتوں میں امید بھی تھی پسپائی بھی
موت کے قدموں کی آہٹ بھی جیون کی انگڑائی بھی
مستقبل کی کرنیں بھی تھیں حال کی بوجھل ظلمت بھی
طوفانوں کا شور بھی تھا اور خوابوں کی شہنائی بھی
آج سے میں اپنے گیتوں میں آتش پارے بھر دوں گا
مدھم، لچکیلی تانوں میں جیوٹ دھارے بھر دوں گا
جیون کے اندھیارے پتھ پر مشعل لے کر نکلوں گا
دھرتی کے پھیلے آنچل میں سرخ ستارے بھر دوں گا
آج سے اے مزدور کسانو! میرے گیت تمہارے ہیں
فاقہ کش انسانو! میرے جوگ بہاگ تمہارے ہیں
جب تک تم بھوکے ننگے ہو، یہ نغمے خاموش نہ ہونگے
جب تک بے آلام ہو تم یہ نغمے راحت کوش نہ ہونگے
مجھ کو اس کا رنج نہیں ہے لوگ مجھے فنکار نہ مانیں
فکر و فن کے تاجر میرے شعروں کو اشعار نہ مانیں
میرا فن میری امیدیں ، آج سے تم کو ارپن ہیں!
آج سے میرے گیت تمہارے دکھ اور سکھ کا درپن ہیں
تم سے قوت لے کر اب میں تم کو رہ دکھلاؤں گا
تم پرچم لہرانا ساتھی میں بربط پر گاؤں گا
آج سے میرے فن کا مقصد زنجیریں پگھلانا ہے
آج سے میں شبنم کے بدلے انگارے برساؤں گا
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے