مرے عہد کے حسینو

مرے عہد کے حسینو
وہ ستارے جن کی خاطر کئی بےقرار صدیاں
مری تیرہ بخت دنیا میں ستارہ وار جاگیں
کبھی رفعتوں پہ لپکیں، کبھی وسعتوں سے الجھیں
کبھی سوگوار سوئیں، کبھی نغمہ بار جاگیں
وہ بلند بام تارے وہ فلک مقام تارے
وہ نشان دے کے اپنا رہے بے نشاں ہمیشہ
وہ حسیں، وہ نور زادے، وہ خلاء کے شاہزادے
جو ہماری قسمتوں پر رہے حکمراں ہمیشہ
جنہیں مضمحل دلوں نے ابدی پناہ جانا
تھکے ہارے قافلوں نے جنہیں خضرِ راہ جانا
جنہیں کم سنوں نے چاہا کہ لپک کے پیار کر لیں
جنہیں مہ وشوں نے مانگا کہ گلے کا ہار کر لیں
جنہیں عاشقوں نے چاہا کہ فلک سے توڑ لائیں
کسی راہ میں بچھائیں، کسی سیج پر سجائیں
جنہیں بت گروں نے چاہا کہ صنم بنا کے پوجیں
یہ جو دُور کے حسیں ہیں انہیں پاس لا کے پوجیں
جنہیں مطربوں نے چاہا کہ صداؤں میں پرو لیں
جنہیں شاعروں نے چاہا کہ خیال میں سمو لیں
جو ہزار کوششوں پر بھی شمار میں نہ آئے
کہیں خاک بے بضاعت کے دیار میں نہ آئے
جو ہماری دسترس سے رہے دور دور اب تک
ہمیں دیکھتے رہے ہیں جو بصد غرور اب تک
مرے عہد کے حسینو! وہ نظر نواز تارے
مرا دورِ عشق پرور تمہیں نذر دے رہا ہے
وہ جنوں جو آب و آتش کو اسیر کر چکا تھا!
وہ خلا کی وسعتوں سے بھی خراج لے رہا ہے
مرے ساتھ رہنے والو! مرے بعد آنے والو
میرے دور کا یہ تحفہ تمہیں سازگار آئے
کبھی تم خلا سے گزرو کسی سیم تن کی خاطر
کبھی تم کو دل میں رکھ کر کوئی گلعذار آئے
ساحر لدھیانوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے