میرے اندر خاموشی بولتی ہے

میرے اندر خاموشی بولتی ہے
تیری ہم رہی میں بھی
میں وصال لمحوں کو
رات دن ترستی ہوں
اپنے دل کی سب باتیں
پہلے بھی تو میں اپنی
خلوتوں سے کرتی تھی
اب بھی چادرِ شب کو
راز داں بناتی ہوں
اے مرے رفیقِ جاں
کیسے میں کہوں تجھ سے
تیری ہم رہی میں بھی
وصل آشنا لمحے
ہجر آشنا سے ہیں
سانس سانس میں میری
ایک بے بسی سی ہے
(کیا عجب کمی سی ہے)
بیکراں سی تنہائی
کے یہ سلسلے آخر
کب تلک سنبھالوں گی؟
تیری ہم رہی میں بھی
اجنبی فضائیں ہیں
خود سے تیرے لہجے میں
گفتگو بھی کرتی ہوں
پر مرا ادھورا پن
میرے ساتھ رہتا ہے
(ختم ہی نہیں ہوتا)
تیرے پیار کے جگنو
ہاتھ ہی نہیں آتے!!!!
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے