میری روداد ہے کہ آئینہ

میری روداد ہے کہ آئینہ
یہ کوئی یاد ہے کہ آئینہ
ایک مدت سے کچھ نہیں دیکھا
دل کی فریاد ہے کہ آئینہ
جسم و جاں دیکھ کر لرزتے ہیں
کوئی اُفتاد ہے کہ آئینہ
دلِ درویش کچھ بتا تُو ہی
عشق آباد ہے کہ آئینہ
کوئی بتلاؤ سامنے میرے
میرا ہمزاد ہے کہ آئینہ
شبیرنازش

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے