مری رہنما تری آنکھ ہے

مری رہنما تری آنکھ ہے
مرا زاویہ تری آنکھ ہے
مجھے کیوں نہ خود پہ غرور ہو
مرا آئنہ تری آنکھ ہے
ترے دل کی دنیا میں جانے کا
حسیں راستہ تری آنکھ ہے
مری بہکی نظروں کی رازداں
مرے ساقیا تری آنکھ ہے
نہیں ہے بھٹکنے کا ڈر کوئی
مری رہنما تری آنکھ ہے
مرے دل کو قبضے میں کر لیا
کوئی ساحرہ تری آنکھ ہے
مرا عکس رکھتی ہے ہر گھڑی
بڑی خوشنما تری آنکھ ہے
یہ جو مجھ سے لپٹی ہے روشنی
پسِ مہر و مہ تری آنکھ ہے
مری آنکھ سجدے میں جھک گئی
کوئی بت کدہ تری آنکھ ہے
مجھے ڈوب جانے کا ڈر نہیں
مری ناخدا تری آنکھ ہے
منزّہ سیّد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے