میری راۓ میں

میری راۓ میں
کبھی بحیثیت قوم جب ہم اپنے اجتماعی رویے پر غور کریں تو عجیب طرح کا احساسِ ندامت سارے وجود کو جکڑ لیتا ہے۔ ہمیں نہ خوشی منانے کا شعور ہے اور نہ ہی ہم غم منانے کی سیلقگی سے آشنا ہیں۔ ہر شخص اُکتایا ہوا، ہر نفس بیزار، ہر چہرے پر بے یقینی اور پژمردگی، ہمیں اپنے دوستوں سے گلے، رشتوں سے شکوے اور تعلقات سے رنجشوں نے کچھ اس طرح کےاحساسِ برتری میں مبتلا کر رکھا ہے کہ ہر کسی کے پاس دوسرے پر کئے گۓ احسانات اور قربانیوں کی ایک لمبی بلکہ نہ ختم ہونے والی فہرست ہے۔
ہماری گفتگو میں خود ستائشی اور ذاتی اوصاف کی تشہر اس بہتات سے ہوتی ہے کہ کبھی کبھی اصل متن باالکل ہی مفقود ہو کر رہ جاتا ہے اور اگر خوش قسمتی سے کوئ باشعور سامع میسر آ بھی جاۓ تو وہ دیر تک منہ کھولے حیرت و تاسف سے یہی سوچتا رہتا ہے کہ سامنے والا اصل میں کہنا کیا چاہ رہا ہے۔ منتشرالخیال دانشوروں کا ایک جمِ غفیر جو دوسروں کی آنکھ سے تنکا نکالنے کیلئے ہمہ وقت مصروفِ کار رہتا ہے۔ استاد، عالم، رہبر ، منصف، فنکار، کھلاڑی، لکھاری، صحافی، شاعر ادیب سبھی اپنی اپنی ذات میں اکملیت، مہارت اور علم کا سورج روشن کیئے اپنے تئیں شعور و آگہی کا نور بانٹتے جگہ جگہ دکھائی دیتے ہیں۔
نہ باہمی احترام، نہ وضعداری ، نہ عجزو انکساری، نہ مروت اور نہ ہی رکھ رکھاؤ، نہ دلیل کی قدر اور نہ کسی دوسرے کی راۓ کا احترام۔ بات بات پر طعن و تشنیع، دل آزاری، تضحیک اور عزتِ نفس کو مجروح کرنا عمومی طرزِ معاشرت ہے۔ کوئ یہ بات سمجھنے یا اِس سے اتفاق کرنے کیلئے تیار ہی نہیں کہ ہر کوئ ہر کسی کام کیلئے نہیں ہوتا۔ نہ ہی ہر علم کی تشریح کا ادراک ہر کسی کو ودیعت کیا جاتا ہے۔ مگر ہم بضد ہیں۔ ہماری ہٹ دھرمی ہمارے لیئے جتنے بھی بڑے نقصان کا باعث کیوں نہ بن جاۓ ہم اپنے موقف سے رتی برابر بھی پیچھے ہٹنا اپنی انائ توہین سمجھ رہے ہوتے ہیں۔
ہماری والدین سے چپکلش، اولاد سے اختلاف، بہن بھائیوں سے جھگڑوں اور دوستوں سے حسد اور منافقت نے ہمیں آہستہ آہستہ اور غیر محسوس طریقے سے بے حِسی کے ایسے سفر پر گامزن کر دیا ہے کہ جہاں سے زندگی کی آخری سانس تک بھی ہماری واپسی ناممکن ہے۔ مصنوعیت کی خاک سے لتھڑے چہروں کیساتھ ہم بتدریج تیرگی کی طرف بڑھتے جا رہے ہیں مگر اس خبط میں مبتلا ہیں کہ ہم روشنی کا عَلم تھامے وقار اور تمکنت کے متلاشی ہیں۔ اقوام عالم کی تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ سائنس اور فسلفہ سے استفادہ کرنے والی بیشتر قوموں نے قدرے بہتر انداز میں معاشرتی ڈھانچوں کو استوار کیا۔ مگر وقت نے ثابت کیا کہ کوئ سچ حتمی اور متفقہ طور پر قبول نہیں کیا گیا۔ ہر معاشرے اور ہر وقت کا اپنا ایک الگ سچ ہے۔ لالچ، حسد، بغض، منافقت، جھوٹ، مکاری، دروغ گوئ، فریب ، دیانت، ایثار، سچائ، نیکی ، مذہب اور پارسائ غرض کہ ہر لفظ کی توجیح اور تشریح بنی نوع انسان نے اپنے موافق حالات اور معلوم حقائق کی بنا پر اپنے انداز میں کی۔ پھر اختلاف کیوں؟؟ ایک دوسرے کیلئے درگزر کے راستے کیوں مسدود کر دیے جاتے ہیں؟ کیونکہ ایک نظریے کا حامل شخص خود سے مختلف نظریہ رکھنے والے کے وجود ہی کو بوجھ سمجھنا شروع کر دیتا ہے؟؟ کیا ہم میں سکت ہے کہ ہم وقت کو تسخیر کر لیں؟؟ کیا ہم میں قوت ہے کہ ہم کائناتِ ارضی کو حکم دیں کہ ہماری خواہشات کی تکمیل ہماری جنبشِ لب کی محاج بنا دے؟؟؟ نہیں کچھ بھی ایسا نہیں ہو سکتا۔ یہ جانتے ہوۓ بھی کہ انسان ایک حد تک ہی بااختیار ہے پھر بھی ہم اس مختصر سی زندگی کو جہنم بناۓ ہوۓ ہیں۔ صرف ایک لمحے کیلئے ورطئہ فکر میں غوطہ زن ہو کر اپنے ضمیر سے استفسار کریں تو جواب سواۓ بے بسی کے کچھ نہیں ملے گا۔ ہمیں بس اُس ایک لمحے کو مسخر کرنا ہے جس میں ہم انسانیت کے منصب سے گر جاتے ہیں۔ جو ہمیں ہماری خواہشات کے حصول کیلئے ہمیں خود اپنی نظروں میں قابلِ نفرت بنا دیتا ہے۔ ہمیں اُس شعور اور بینائ کی جستجو کرنا ہے کہ جو متلاشی نگاہ بن کر ہم میں چُھپی قدسی روح کو ڈھونڈھ لے اور جو ہمیں حقیقت میں وقار اور تمکنت سے جینے کے آداب سکھا دے۔ ہمیں خود پہ دھیان دینا ہوگا۔ اپنے آپ سے دوری اور خود سے بیگانگی ہی ہمارے بہتر بلکہ مثبت طرزِ زندگی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
محبوب صابر
02 اپریل 2020 سیالکوٹ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے