مری محبت تو اِک گُہر ہے تری وفا بے کراں سمندر

مری محبت تو اِک گُہر ہے تری وفا بے کراں سمندر
تُو پھر بھی مجھ سے عظیم تر ہے کہاں گُہر ہے کہاں سمندر

یقیں ہے دھوکے میں آ کے اُترا ہے چاند پانی کی سلطنت میں
بلندیوں سے دکھائی دیتا ہے ہُو بہُو آسماں سمندر

ازل سے بے سمت جستجو کا سفر ہے درپیش پانیوں کو
کسے خبر کس کو ڈھونڈتا ہے میری طرح رائیگاں سمندر؟

میں تشنہ لب دُور سے جو دیکھوں تو ہر طرف سیلِ آب پاؤں
قریب جاؤں تو ریت شعلہ غبار ساحل دھواں سمندر

ہمارے دِل میں چھپے ہُوئے درد کی خبر چشمِ تر کو ہوگی
سُنا ہے زیرِ زمیں خزانوں کا ہے فقط رازداں سمندر

میں استعاروں کی سر زمیں پر اُتر کے دیکھوں تو بھید پاؤں
بشر مسافر حیات صحرا یقین ساحل گماں سمندر

جہاں جہاں شامِ غم کی افسردگی کا ماتم بپا ہُوا ہے
اُفق سے ہنس کر گلے ملا ہے وہاں وہاں مہرباں سمندر

وفا کی بستی میں رہنے والوں سے ہم نے محسنؔ یہ طور سیکھا
لبوں پہ صحرا کی تشنگی ہو مگر دِلوں میں نہاں سمندر

محسن نقوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے