مری خطا کہ تجھے بار بار سوچا تھا

مری خطا کہ تجھے بار بار سوچا تھا
بس ایک بار ترا اختیار سوچا تھا

مجھے قبول کہ تُو میرا پہلا عشق نہیں
کہ تجھ سے پہلے بھی یُوں ایک بار سوچا تھا
۔۔۔۔۔
کچھ اِس لیے بھی ترا منتظر ہُوں مّدت سے
خزاں کے جیسا مَیں ، تجھ کو بہار سوچا تھا

تمام رات کہ تنہا گزار دی مَیں نے
کب اِس طرح سے مَیں نے میرے یار سوچا تھا

تمھاری آنچ سے گھُلتا ہی جا رہا ہے بدن
تُو کوئی آگ ہے مَیں نے چنار سوچا تھا

پھر ایسا بھی ہُوا تصویر اتار لی مَیں نے
تمھارے چہرے کو کچھ اِتنی بار سوچا تھا

سمیرؔ شمس

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے