مری آنکھوں کو دھوکا ہو رہا ہے

مری آنکھوں کو دھوکا ہو رہا ہے
کہ آئینہ ہی دھُندلا ہو رہا ہے
وہی ہم ہیں، وہی دنیا، وہی دل
وہی جو ہو رہا تھا ہو رہا ہے
نہ آوازیں ہی دل کو چھُو رہی ہیں
نہ سنّاٹا ہی گہرا ہو رہا ہے
نہ یہ آنکھیں ہی پتھر ہو رہی ہیں
نہ یہ آنسو ہی دریا ہو رہا ہے
ہمارے پاؤں زخمی ہو رہے ہیں
چلو، ہموار رستا ہو رہا ہے
مرے تو خواب مٹّی ہو رہے ہیں
در و دیوار کو کیا ہو رہا ہے
ہوائیں دکھ بٹاتی پھر رہی ہیں
زمیں کا بوجھ ہلکا ہو رہا ہے
کاشف حسین غائر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے