میری آنکھوں میں سحر کرتی ہے تھک جاتی ہے

میری آنکھوں میں سحر کرتی ہے تھک جاتی ہے
نیند چلتی ہے سفر کرتی ہے تھک جاتی ہے

زندگی میری وہ کشتی ہے جو ضد میں آ کر
اپنے اطراف بھنور کرتی ہے تھک جاتی ہے

میرے واعظ تری تقریر میں تاثیر نہیں
تیری آواز اثر کرتی ہے تھک جاتی ہے

ایک نادیدہ تماشا ہے جو کھلتا ہی نہیں
آنکھ تکتی ہے بسر کرتی ہے تھک جاتی ہے

چاق و چوبند میں رہتا ہوں کہانی سن کر
آنکھ سے نیند گزر کرتی ہے تھک جاتی ہے

ملک عتیق

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے