میرے ہاتھوں میں مقید ایک سُورج

میرے ہاتھوں میں مقید ایک سُورج

رات کے پچھلے پہر یہ معجزہ کیسے ہوا تھا؟
آفتاب آکاش کے پچھلے کنارے سے کھسک کر
رات کی تاریکیوں سے ڈرتا ڈرتاآآآ اپنی آب و تاب، اپنی روشنی، اپنی تمازت
پوٹلی میں باندھ کر لایا
مری سوکھی ہوئی مریل ہتھیلی پر اسے رکھا
مری مُٹھّی کو جبراً بند کر کے چل دیا، تو مجھ کو جیسے ہوش آیا

لاکھ کوشش کر چکا ہوں،بند مُٹھّی بند ہے، کھُلتی نہیں ہے
جگمگاتی روشنی مُٹھّی سے کوندوں کی طرح باہر لپک کر

اپنی آب و تاب سے آنکھوں کو خیرہ کر رہی ہے
تابکاری کے شرارے اُنگلیوں سے پھوٹتے ہیں
شہر کے سب لوگ بھی اس معجزے کو دیکھتے ہیں
اپنی ساری عمر تو یہ شخص تاریکی کی چادر کو لپیٹے جی چکا ہے
عین پیری میں بھلا یہ معجزہ کیسے ہوا ، وہ پوچھتے ہیں
ایسی شہرت، یہ جلال و شان و شوکت
اس زوالِ عمر کے مارے ہوئے بوڑھے کو مل سکتی ہے
یہ کس کو پتہ تھا!

میرے ہاتھوں میں مقید میرا سورج
خاک آسودہ مرے ہی ساتھ ہو گا
قبر سے بھی روشنی پھوٹے گی، اتنا جانتا ہوں

ستیا پال آنند

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے