مِرے دُشمن

بہت گہرے اندھیرے میں کوئی سالارِ لشکر
جس طرح اپنے پیادوں سے بچھڑتا ہے، اچانک خود کو اُس سالار کی صورت اکیلا اور شکستہ دیکھ کر میں اپنے تیر و ترکش و خنجر گنوا بیٹھا ہوں اب تُو ہی بتا مجھ کو ،میں تُجھ سے اور ترے لشکر سے بچ کر کس طرف نکلوں!
چلو ہتھیار پھینکو
اپنے لشکر سے کہو
وہ اپنی زرہیں کھول دے
اور تیغ و خنجر،تیر و ترکش اک طرف رکھ دے
مَیں اِک ہارے ہوئے لشکر کی جانب سے
اَنا کی کرچیاں تھامے ترے خیمے میں آیا ہوں
مِ رے دشمن
غرورِ فتح سے چمکا ہوا ماتھا اُٹھا
میں اس بھرے دربار میں
اپنی شکستِ فاش کو تسلیم کرتا ہوں
ایوب خاور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے