میرے دیکھے سے کوئی بھی ہو سنبھل پڑتا ہے

میرے دیکھے سے کوئی بھی ہو سنبھل پڑتا ہے
پاؤں رکھتی ہوں جہاں راستہ چل پڑتا ہے
میں شب و روز تجھے ڈھونڈتے رہنے کی نہیں
اس طرح میری توجہ میں خلل پڑتا ہے
اس کو سمجھاتی بھی ہوں راستہ گھر کا ہر بار
وہ مگر اور کسی سمت نکل پڑتا ہے
میرے گلدان میں کھلتے ہیں ترے لمس کے پھول
میری شاخوں پہ ترے نام کا پھل پڑتا ہے
اس کو شوخی بھی میسر ہے فراوانی سے
وہ جو حالات کی مرضی سے بدل پڑتا ہے
تجدید قیصر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے