میرے دل میں شور تیرا جب سے ہے

میرے دل میں شور تیرا جب سے ہے
میرے ہونٹوں کو لگی چُپ تب سے ہے
آنکھ میں جگنو چمکتے تھے کبھی
زرد اب چہرہ نہ جانے کب سے ہے
ہے گلہ تم سے نہ شکوہ زیست سے
تیرگی کی تو شکایت شب سے ہے
تیری آنکھیں مسکراتی ہی رہیں
بس یہی میری دُعا رب سے ہے
ہو گزر تیرا ادھر سے بھی کبھی
منتظر ناہید تیری کب سے ہے
ناہید ورک

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے