میرا تو رب مہربان ہے

میرا تو رب مہربان ہے
رب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا تو رب مہربان ہے پھر میں اتنا پریشان کیوں؟میرے لیے اتنی سختیاں کیوں؟ اتنی محرومیاں اتنی ازیتیں اتنی آزماٸشے کیوں؟ کیوں میں اپنے آپ کو محتاج محسوس کرتی ہوں؟ مشکل سفر کہ بعد بھی اپنی ہی منزل سے خالی لوٹ آتی ہوں؟ کیوں کوٸ خوشی مسلسل میرا ساتھ نہیں دیتی؟ آنسوں پلکوں سے جدا نہیں ہوتے؟ ۔ جس نے مھجے پیدا کیا ہے وہ رب العزت تو اپنے بندے سے ستر ماوں سے زیادہ محبت کرتا ہے۔۔۔۔۔۔وہ رب تو رحیم ہے۔۔ رحم کرنے والا ہے۔۔ وہ وسمیع ہے۔۔۔ پکارنے والوں کی پکار سنتا ہے۔۔۔ زمین پر چلنے والی چونٹی کی آہٹ اور مچھروں کے پروں کی آواز تک سنتا ہے۔۔۔۔ وہ بصیر ہے۔۔ وہ ہر چیز کو دیکھتا یے۔۔۔ پھر کیوں؟ ہر وقت میں پریشان خود سے اس جہاں کی ہر ایک چیز سے؟۔۔ کیا اللہ پاک مھجے دیکھ نہیں رہیں کیا اللہ پاک میری سنتے نہیں ہیں؟ کیا میں اتنی گھنہگار ہوں کہ میرے کیے کی کوٸ معافی نہیں؟ یہ میرا رب مھجے سے ناراض ہے ؟ یا میں واقعی قابل نہیں ہوں اللہ کی رحمت کے؟ یا پھر میں واقعی بدقسمت ہوں؟۔۔۔۔۔
ایسے لا کھوں سوالات میرے زہہن میں آتے ہیں۔۔۔ جو میں اکثر خود سے کہتی رہتی ہوں۔یہاں تک کہ مھجے کوٸ چیز خواہش کہ مطابق نہیں ملی بللکہ کوٸ چیز ضرورت سے زیادہ تو کیا۔۔۔۔۔ ضرورت کے مطابق بھی نہیں ملی ۔ آزاد زندگی کیا ہوتی ہے میں نے کبھی گزاری ہی نہیں ہے۔لبوں پر ہمھشہ خاموشی کا پہرا ہوتا کسی سے ہم کلام ہوے مدت ہوجاتی ہے۔ اس جہاں میں مھجے سواۓ غم ازیت دکھ کہ علاوہ کچھ نہیں ملا ۔کیا یہ نشانیاں یے میرے رب کی مجھ س ناراض ہونے کی۔یا میری قسمت میں لکھا ہے وہ ہو رہا ہے۔یا میں نے جو کیا ہے وہ کاٹ رہی ہوں میں۔۔۔۔میں اپنے آپ کو بچپن سے ان حالات سے لڑتا دیکھتی آرہی ہوں۔۔۔۔۔آج زندگی کے پچس تیس سالوں کے سفر میں۔۔۔ میں نے خود کو بے بس محسوس کیا ہے۔اور آج میں اتنی تھک گٸ ہوں۔۔۔۔ کہ تھک ہار کر زمین پر بیٹھ گٸ۔۔ایک نظر آسماں کو التجا….. مدد…. فریاد…. ہر نگاہوں سے آسماں کی جانب دیکھا جب کوٸ جواب نا آیا۔۔ وہاں سے تو نظرے جھکا گٸ میں۔ اور وہی زمین پر بیٹھ گٸ۔۔ کہ کوٸ تو جواب آۓ گا۔۔ میرا رب مھجے مایوس نہیں کریں گا۔۔۔ میں کتنی ہی گنھگار کیوں نا ہو۔۔۔ وہ میری پھر بھی سنے گا۔ بس پھر میں کافی دیر وہی زمین پر بیٹھی رہی۔۔ بیٹھے بیٹھے آنسوں کی رونگی میں تیزی آگی لیکن جواب نا آیا۔۔ میں نے پھر آسماں کی جانب دیکھا سب کچھ پہلے جیسا ہی تھا میں مایوس ہو کر اوٹھ کھڑی ہوٸ۔۔ اسی رات کہ پہر میں یوہی کروٹے بدلتی رہی نیند نہیں آٸ آخر کار میں پرشان ہو کر بیٹھ گٸ۔۔ آنکھوں میں پھر سے آنسوں روا ہوگۓ۔۔۔۔۔۔شدت کے ساتھ اللہ کو پکارنے لگی۔۔۔ لبوں سے پھر شکوہ کرنے لگی۔۔۔ کہ میں اس حال میں کیوں ہوں؟ آپ تو بڑے بڑے گناہوں کو معاف فرما دیتے ہو مھجے میرے گناہوں کو کیوں نہیں۔۔ میں بھی انسان ہوں خطا کا پتلا ہو میں نے بہت سے گناہ کیے ہونگے۔۔۔آپ تو اپنے بندے کو اک آنسوں پر معاف کر دیتے ہو مھجے کیوں نہیں ۔۔۔۔اے پاک پروردیگار اگر میں گنھگار ہوں تو مھجے معاف فرما دیں ۔۔۔۔۔اے میرے پروردیگار میرے پاس آپ کے سوإ کوٸ نہیں ہے آپ دلوں کہ حال جانتے ہو۔۔۔ میرا اتنا کہنا تھا ۔۔۔یک دم ایک حدیث یاد آٸ۔۔
الدنیا سجن المومن وجنة الکافر۔۔۔۔ترجمہ۔۔۔دنیا مسلمانوں کے لیے قید خانہ اور کافر کے لیے جنت ہے۔…… اس حدیث کا ترجمہ میری زباں پر جاری ہوگیا شرم سے نگاہیں جھک گٸ کہ میں رب العزت سے دنیا کی عیش و آرام دیکھ کر دنیا کی طلب کر بیٹھی اور میں کیا مانگ رہی تھی دنیا جبکہ دنیا تو مومن کی یے ہی نہیں میں خود دنیا مانگ کر اپنے آپ کو جہنم کی طرف دھکیل رہی تھی ۔اپنے پروردیگار کا شکر کرنے کے بجاۓ ناشکری کر رہی تھی کہ آپ نے مھجے ان چیزوں سے دور رکھا جو مھجے گھنہگار بنانے کا سبب بن رہی تھی مجھے میرے ہی گھر میں پاک رکھا گانے باجوں دنیا کی ہر بری چیز سے دور رکھا سے نماز کا پابند بنایا سیدھے راستے پر چالایا۔۔۔ بھلے پھر اس جہاں کی کوٸ چیز میری نہیں ہے۔۔۔ آپنے مھجے اپنے محبوب کا امتی بنا یا ان سب کا شکر ادا کرنے کے بجاۓ میں اللہ پاک سے شکوے کر رہی تھی اپنے رب سے جو مھجے پیدا کرنے والا یے اللہ تو کہتا ہے میں ہر وقت اپنے بندے کہ ساتھ ہوں تو وہ کیا مھجے دنیا میں روتا چھوڑ دےگا۔ کبھی بھی نہیں وہ تو رب ہے وہ اپنی بناٸ ہر چیز سے محبت کرتا یے اور میں تو اللہ پاک کی بندی ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ کے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ واسلم کی امتی بھی ہوں۔۔۔۔۔۔ ہو ہی نہیں سکتا کہ اللہ پاک میری دعایں نہیں سنتے میرا رب مھجے ہر وقت سنتا ہے۔ وہ رب تو مہربان ہے میں ہی غافل تھی اپنی رب کی رحمتوں سے لیکن اب ان سوالات کی میرے دل دماغ میں کوٸ جگہ نہیں یے۔ جب سے حدیث میں نے پڑھی ہے سمجھی ہے دنیا مسلمانوں کے لیے قید خانہ ہے ۔۔۔۔مھجے اس بات کا احساس ہوا ہے میں بھی تو ایک مومن ہو۔۔۔ہو سکتا ہے میں بھی اس فانی ہو جانے والی دنیا میں قید ہوں ہو سکتا ہے میرے پاس اس جہاں کی عزت و محبت نہیں ہے میرا رب مھجے آخرت کی عزت و محبت دینا چاہتا ہو۔ ہو سکتا یہاں میں اس لیے خاموش ہو آخرت میں میرا رب مھجے سننا چاہتا ہو۔ ہو سکتا ہے میرے رب کو میری دنیا کی آزادی پسند نا ہو میرا رب مھجے آخرت میں آزاد کرنا چاہتا ہو۔۔۔۔۔ہو سکتا نہیں یقیقنا دنیا کی سختیاں اللہ پاک سے بہترین ملاقات کی نشانیاں ہیں ۔ انشااللہ اس یقیقن کہ ساتھ کے وہ اپنے بندے کو کبھی نہیں بھولتا وہ اپنے بندے کہ ہر اچھے گمان کہ ساتھ ہے۔۔ یوں مایوسی کہ اندھیرے کے بعد نٸی کرن نے میری زندگی میں دستک دی ۔۔۔ مھجے بتایا مایوسی کفر ہے ۔۔مایوس نا ہو آپ جس حال میں ہیں اس میں بھی ہماری بہتری ہے۔۔۔۔۔۔۔جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی یے ان کے دنیا کی زندگی بڑی رنگین محبوب اور خوبصورت بنا دی گٸ ہے۔۔۔۔۔۔اس لۓ جب شیطان اور تمھارا نفس تمھیں وسوسے دلاۓ تو خود سے وہی کہو جو ابراھہیم علیہ السلام نے خود سے کہا تھا۔۔۔۔۔صرف اپنے پروردیگار کو پکارتا رہونگا
۔مجھ یقیقن ہے کہ میں اپنے پروردیگار سے دعا مانگ کر محروم نا رہوں گا۔۔۔ سورة مریم آیت نمبر 48 بےشک میرا رب مہربان ہے۔۔ ٕنا ہے آرزو سب مل جاۓ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رب مل جاۓ لب کہل جاۓ۔۔۔۔۔۔۔۔ چاہے غم کا پہرا ہو۔۔۔۔۔۔۔ میرا رابطہ رب سے گہرا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔
ماھین سرور

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے