میرا بچہ

میرا بچہ
یہ میرا بچہ ہے۔ آج سے ڈیڑھ سال پہلے اس کا کوئی وجود نہیں تھا۔ آج سے ڈیڑھ سال پہلے یہ اپنی ماں کے سپنوں میں تھا۔ میری تند و تیز جنسی خواہش میں سو رہا تھا۔ جیسے درخت بیج میں سویا رہتا ہے۔ مگر آج سے ڈیڑھ برس پہلے اس کا کہیں وجود نہ تھا۔
حیرت ہےاب اسے دیکھ کر، اسے گلے سے لگا کر، اسے اپنے کندھے پر سلا کرمجھے اتنی راحت کیوں ہوتی ہے۔ بڑی عجیب راحت ہے یہ۔ یہ راحت اس راحت سے کہیں مختلف ہے جو محبوب کو اپنی بانہوں میں لٹا لینے سے ہوتی ہے، جو اپنی من مرضی کا کام سر انجام دینے سے ہوتی ہے، جو ماں کی آغوش میں پگھل جانے سے ہوتی ہے، یہ راحت بڑی عجیب سی راحت ہے۔ جیسے آدمی یکایک کسی نئے جزیرے میں آنکلے، کسی نئے سمندر کو دیکھ لے، کسی نئے افق کو پہچان لے۔ میرا بچہ بھی ایک ایسا ہی نیا افق ہے۔ حیرت ہے کہ ہر پرانی چیز میں ایک نئی چیز سوئی رہتی ہے اور جب تک وہ جاگ کر سر بلند نہ ہولے کوئی اس کے وجود سے آگاہ نہیں ہو سکتا۔ یہی تسلسل مادے کی بنیاد ہے اس کی ابدیت کا مرکز ہے۔ اس سے پہلے میں نے اس نئے افق کو نہیں دیکھاتھا لیکن اس کی محبت میرے دل میں موجود تھی۔ میں اس سے آگاہ نہ تھا مگر یہ میری ذات میں تھی۔ جیسے یہ بچہ میری ذات میں تھا محبت اور بچہ اور میں۔ تخلیق کے جزبے کی تین تصویریں ہیں۔
بچے سبھی کو پیارے معلوم ہوتے ہیں مجھے بھی اپنا بچہ پیارا ہے، شاید دوسرے لوگوں کے بچوں سے زیادہ پیارا ہے۔ اپنے آپ سے پیارا نہیں مگر اپنے آپ کے بعد اور بھی کئی چیزیں ہیں، کئی جزبے ہیں، انا کی کتنی ہی تفسیریں ہیں جن کے بعد یہ بچہ مجھے پیارا ہے۔ یہ تو کوئی بڑی عجیب اور انوکھی بات نہیں ہے میں دن میں اپنا کام کرتا ہوں اور یہ بچہ مجھے بہت کم یاد آتا ہے اور جب یہ سامنے ہوتا ہے اس وقت بہت کم کام مجھے یاد آتے ہیں۔ یہ سب ایک نہایت ہی عام بات سی ہے۔ ہر ماں او رہر باپ اس فطری جزبے سے آگاہ ہے اس میں تو کوئی نئی بات نہیں لیکن دنیا میں ہر بار کسی بچے کا مرض وجود میں آنا ایک نئی بات ہے۔ چاہے وہ بادشاہ کا بچہ ہو یا کسی غریب لکڑہارے کا۔ ہر بچہ اک نئی حیرت ہے انسانیت کے لئے، تہذیب کے لئے، حال کے لئے، مستقبل کے لئے، وہ ایک خاکہ جس میں رنگ بھرا جائے گا ، جس میں نقوش ابھارے جائیں، جس کے گرد سماج کا چوکھٹا لگایا جائے گا۔ اس خاکے کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے، دل میں تجسس اور تخیل میں اڑان پیدا ہوتی ہے۔ بڈھے کو دیکھ کر تخیل پیچھے کو دوڑتا ہے، بچے کو دیکھ کر آگے بڑھتا ہے بڈھا پرانا ہے، تو بچہ پرنیا ہے، ایک ماضی ہے تو دوسرا مستقبل ہے، لیکن تسلسل لئے ہوئے۔ تخیل کی ریل گاڑی انہی دو اسٹیشنوں کے درمیان آگے پیچھے چلتی رہتی ہے۔
کس قدرتحیر، عجیب وغریب نیا حادثہ ہےیہ بچہ۔ ایک تو اس کی اپنی شخصیت ہے پھر اس کے اندر دو اور شخصیتیں ہیں۔ ایک اس کی ماں کی دوسری اس کے باپ کی۔ اور پھر دو شخصیتوں کے اندر نہ جانے اور کتنی شخصیتیں چھپی ہوئی ہونگی۔ اور ان سب نے مل کر ایک نیا خمیر اٹھایا ہوگا یہ خمیر کیسا ہوگا، ابھی سے کوئی کیا کہہ سکتا ہے اس بچہ کو دیکھ کے جو اس وقت ’جا!جا!جا! ‘ کہتا ہے اور پھر ہنس کر انگوٹھا چوسنے میں مصروف ہو جاتا ہے۔ میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ اس چہرے میں میرا تبسم ہے، میری ٹھوڑی ہے، وہی ہونٹ ہیں وہی ماتھا، بھویں اور آنکھیں ماں کی ہیں اور کان بھی لیکن کوئی چیز پوری نہیں، ساری نہیں، مکمل نہیں، بس ملتی ہوئی۔ ان سب کے پس پردہ ایک نیا پن ہے، ایک نیا انداز ہے، ایک نئی تصویر ہے۔ یہ تصویر ہمیں اور ہم اسے حیرت سے تک رہے ہیں ۔ شاید اس کے اندر ہندو کلچر اور تہذیب کا مزاج موجود ہوگا۔ باپ کا غرور اور ماں کا بھولاپن موجود ہوگا لیکن ابھی سے میں کیا کوئی بھی کیا کہہ سکتا ہے اس کے بارے میں۔ یہ ایک نئی چیز ہے جیسے ایٹم کے وہی ذرے مختلف انداز سے مل کر مختلف دھاتیں بن جاتے ہیں۔ کوئی اس بچے کے متعلق بھی کہہ سکتا ہے۔
جہاں انسان ہر نئی چیز کو حیرت سے دیکھتا ہے وہاں وہ ہر نئی چیزیں اپنی جانی پہچانی چیزیں ڈھونڈ کر اسے پرانا بناتا رہتا ہے۔ یہ عمل ہر وقت جاری رہتاہے۔ شاید میں بھی اپنے بچے میں اپنے مطلب کی تصویریں دیکھتا ہوں۔ اور ان میں رنگ بھرنے کی کو شش کرتا رہتا ہوں۔ دنیا میں بہت سے خاکے اسی طرح بھرے جاتے ہیں اور ماضی اور حال اور مستقبل کی اسی طرح تعمیر ہوتی رہتی ہے۔ بوقلموں رنگوں سے اس بچے کی دنیا آباد ہوتی ہے کچھ رنگ آمیزی کرتا ہے، کچھ ماں باپ کرتے ہیں، کچھ اس کی اپنی شخصیت بروئے کار آتی ہے اور اس طرح یہ تصویر مکمل ہوتی جاتی ہے۔ مگر کبھی پوری طرح مکمل نہیں ہوتی کیونکہ موت کی سیاہی بھی تو ایک رنگ ہی ہے۔ انسان کی تقدیریں اور اس ساری کائنات کی تقدیریں آخری برش آج تک کسی نے نہیں لگایا۔ ارتقاء کی آخری کڑی کوئی نہیں ہے۔ حیرت بڑھتی جاتی ہے۔
لیکن رنگ آمیزی کہیں نہ کہیں سے تو شروع ہوگی ۔ اس خاکے میں رنگ بھرا جائے گا۔ اب جب یہ رویا تھا اور آیا نے اسے شہد چٹایا تھا، تو برش کی پہلی حنیش معرض عمل میں آئی تھی۔ پھر اس نے کپڑے پہنے ، اور اس کے کانوں میں وید منتر پھونکے گئے، اور ماں نے پنجابی زبان میں لوری سنائی اور باپ نے ہنس کر انگریزی زبان میں اس سے بات کی ۔ اور باپ کے مسلمان دوست اسے اپنے سینے سے لگائے لگائےگھومے۔ یہ تصویر کہیں گڈ مڈ تو نہ ہو جائیگی۔ ماضی پرانا ہے، لیکن حال ناآسودہ ہے، مستقبل کیا ہوگا، یہ بچہ کدھر جا رہا ہے۔
سوال کوئی نیا نہیں۔ ہر صدی میں، ہر برس میں، ہر ماہ میں، ہر روز ہر لمحہ یہی سوال انسانیت کے سامنے پیش آتا ہے۔ یہ نیا لمحہ جو افق کے پھلانگ کے سامنے موجود ہوا ہے، کیا ہے؟ کس کی غمازی کر رہا ہے، تاریخ کے کس دھارے کا مظہر ہے، اس آگ کو ہم کیسے باندھ سکتے ہیں، اس شعلے کی تربیت کیوں کر ممکن ہے۔ عام لوگوں کے لئے امام دین اور گنگا رام کے لئے شاید یہ سوال اہم نہیں ہے۔ امام دین کا بیٹا فتح دین ہوگا اور گنگا رام کا سپوت جمنا رام ہوگا ۔ سیدھا سادا دستور یہ ہے کہ ہر نئی چیزکو ماضی کے ساتھ جکڑ دیا جائے نہایت آسان بات ہے۔ کیونکہ ماضی جانی بوجھی سوچی سمجھی ہوئی کہانی ہے۔ وہ آنے والا تجربہ نہیں۔ گزرنے والا تجربہ ہے۔ ایک ایسا مشاہدہ جو تکمیل کو پہنچ گیا جس کی نیکی بدی کی حدود انسانی اوراک کے جغرافیئے میں درج کردی گئی ہیں۔ یہ کام سب سے آسان ہے اور دنیا یہی کرتی ہے اور حیرت اور سچائی اور نیکی اور ترقی کا شب و روز خون کرتی ہے۔
شاید مجھے بھی یہی کرنا چاہئے مگر ابھی تلک تو یہ بچہ میرے لئے اتنا بنا ہے کہ میں اس خاکے کو چھوتے ہوئے ڈرتا ہوں۔ اس کے نام ہی کو لے لیں۔ ہر روز اصرار ہوتا ہے، بیوی بھی کہتی ہے، احباب بھی پھوچھتے ہیں، اس کا نام کیا ہے؟ اس کا نام تو کچھ رکھو، میں سوچتا ہوں اس کا نام، اس کا نام میں کیا رکھوں؟ پہلے تو یہی سوچنا ہے کہ مجھے اس کا نام رکھنے کا بھی کوئی حق ہے؟ کسی دوسرے کی شخصیت پر میں اپنی پسند کیسے جڑدوں، بڑی مشکل بات ہے، بالفرض محال میں اس غاصبانہ بے انصافی پر راضی بھی کر دیا جاؤں۔ تو اس کا نام کیا رکھوں؟ اس کی دادی کو شرون کمار نام پسند ہے۔ اور اس کی ماں کو دلیپ سنگھ۔ میرے ذہن میں تین اچھے نام آتے ہیں۔رنجن، اسلم، ہنری،صوتی اعتبار سے یہ نام بڑے پیارے ہیں۔ کم ازکم مجھے اچھے معلوم ہوتے ہیں لیکن صوتی اعتبار کے علاوہ سیاسی اور مذہبی الجھنیں بھی ان ناموں کے ساتھ لپٹی ہوئی ہیں۔ کاش کوئی ایسا نام ہو جو ان الجھنوں سے الگ رہ کر اپنی شخصیت رکھتا ہو۔رنجن ہندو ہے، اسلم مسلمان ہے، ہنری عیسائی ہے۔ یہ لوگ ناموں کو اس قدر محدود کیوں کر دیتے ہیں۔ اس قدر کمینہ کیوں بنادیتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے یہ نام نہیں ہے پھانسی ہے، پھانسی کی رسی ہے جو زندگی سےموت تک بچے کے گلے میں لٹکتی رہتی ہے جو آزادی دے سکے۔ ایسا نہیں جو کسی قسم کی سیاسی مذہبی سماجی غلامی عطا کرتا ہو پھر وہ نام کیا ہو، یہاں آکر ہمیشہ گھر میں اور دوست احباب میں جگھڑا شروع ہوجاتا ہے اور میں سوچتا ہوں ابھی میں اس کا نام کیوں رکھوں، کیوں نہ اسے خود موقعہ دوں کہ بڑے ہو کر یہ اپنا نام خود تجویز کر لے۔ پھر چاہے یہ اپنا نام ٹرارام، کو مل گندھار یا عبدالشکور رکھتا پھرے مجھے اس سے کیا واسطہ۔
برش تذبذب میں ہے کہ کون رنگ بھرے۔ نام کو چھوڑئیے مذہب کو لیجئے، ہندو کلچر میں ڈوبا ہوا گھر بیٹے کو اسی رنگ میں رنگے گا اسلامی کلچر کا فرزندضرور مسلمان ہوگا یعنی ماں باپ کی یہی خواہش ہوتی ہے۔ مگر یہ تو بڑی عجیب سی بات ہوئی کہ آپ نے پچیس برس تک اپنے فرزند کو ایک اپنے ہی پرانے ڈھرے پر چلانے کی کوشش کی۔ اور اس کے بعد یکایک خیالات نے جو پلٹا کھایا تو ہندو مسلمان، مسلمان عیسائی، اور عیسائی کمیونسٹ ہو گیا۔ اعتقادات زندگی کے دیکھنے سے بنتے ہیں نہ کہ دماغ پر ٹھونسنے سے۔ یعنی کون سا طریقہ بہتر ہے اب تک تو دوسرا طریقہ رائج ہے یعنی زبردستی ٹھونسم ٹھانس اور اس کے بعد عادت ثانیہ، دادا ہندو، باپ ہندو، بیٹا ہندو۔ خمیر پہلے ایک قدم اٹھاتی ہے پھر دوسرا، پھر تیسرا، اور پھر اسی راستے پر اسی طرح انہیں قدموں پر چلتی جاتی ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتی کہ راستے میں دائیں طرف گھاس ہے، مکھن پیالوں کے پھول ہیں، بائیں طرف چیل کے درخت ہیں، راستے میں چٹانوں پر خوش الحان طیور اپنے رنگین پروں کو سنوارے بیٹھے ہیں۔ فضا میں نشے کی بارش ہے، آسمان پربادلوں کے پریزاد ہیں، نہیں یہ سب کچھ نہیں ہے بس خچر کے لئے تو قدموں کی مسلسل زنجیر ہے اور مالک کا چابک۔ ہر بیٹا اپنے باپ کا چابک کھاتا ہےاور خچر کی طرح پرانے راستے پر چلتا ہے تو پھر نئے راستے کیسے دریافت ہوگے اور ہر پرانی منزل پر کیسے گامزن ہو سکیں گے، شاید مجھے اس چابک کو بھی چھوڑنا پڑےگا۔
اچھا نام اور مذہب کو بھی گولی ماریئے آیئے ذرا سوچیں کہ اس کا ملک اور اس کی قوم کیا ہے۔ ماضی پر جائیں تو کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ یہ بچہ ہندوستان میں پیدا ہوا اس لئے ہندوستانی ہے۔ شمالی ہند کے ماں باپ کا بیٹا ہے اس لئے آریائی قوم سے منسوب کیا جانا چاہئے۔ ٹھیک ہے دنیا میں ہر جگہ یہی ہوتا ہے، ہوتا آیا ہے، دیر تک ہوتا رہےگا، مگر میں سوچتا ہوں کہ ہر لمحہ جو نیا بچہ ہمارے سامنے لاتا ہے۔ اس تحیر زدہ امر پر اس سے گہرے غوروخوض کی ضرورت ہے ۔ ہندوستانی کیا قوم ہے، کون سا ملک ہے، آریہ لوگ شاید وسط ایشیا سے آئے تھے۔ رگوں میں سامی خون بھی موجزن ہو گیا اور اب یہ کیا قوم ہے؟ کون سا ملک ہے؟ یہ ہندوستان، اس میں ترکستان بھی ہے، روس بھی ہے، چین بھی ہے، ایران بھی ہے، ترکی بھی ہے، عرب بھی ہے، یورپ بھی ہے، اور اب پاکستان بھی ہے، یہ خون ، یہ قوم، یہ ملک، کس قدر جھوٹی اصطلاحیں ہیں۔ انسان نے خود اپنے آپ کو جان بوجھ کر ان زنجیروں سے باندھ رکھا ہےلیکن مجھے تو اپنا بیٹا بہت پیاراہے۔ میں اسے دیدہ و دانستہ ان زنجیروں میں کیسے جکڑ سکتا ہے۔
برش اسی طرح جامد ہے۔ ابھی اس خاکے میں ایک رنگ بھی نہیں بھر سکا۔ تخیل کوئی دوسری راہ اختیار کرے اور یہ سوچے کہ اس کی تعلیم و تربیت کیا ہو، تو یہاں بھی عجیب پیچدگیاں دکھائی دیتی ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں جو تعلیم ہے وہ بھی ماضی سے اس قدر بندھی ہوئی ہے کہ کسی نئے تجربے کی، کسی نئی حیرت کی گنجائش نہیں۔ کیا میں اسے وہ تاریخ پڑھاؤں جو انسانوں کے درمیان نسلی منافقت اور مذہبی بد اعتمادی پھیلاتی ہے۔ یہ تاریخ جس میں بادشاہوں کی زناکاریوں کے قصے ہیں اور بے وقوف وزیروں کے قصیدے ہیں۔ یہ جغرافیہ میں اوباش امیروں اور شرابی شاعروں کی عشقیہ داستانیں ہیں۔ یہ اقتصادیات جسے سرمائے کی ماہیت کا علم نہیں یہ ریاضیات جس میں ایک گھوڑاایک گھنٹہ میں دو میل چلتا ہے تو چوبیس گھنٹے میں کتنا چلے گا، یہ جاہل بے خبر علم و فن جو ہمارے اسکولوں اور کالجوں میں پڑھائے جاتے ہیں۔ زمانہ حال سے کتنے دور ہیں، یہ مبلغ علم ایک سو سال پرانا ہے۔ لیکن میرا بچہ تو نیا ہے کیا اسے پڑھانے کے لئے ایک پوری قوم کو درس حیات دینا پڑے گا۔
شاید ممکن نہیں لیکن یہ تو ممکن ہےکہ میں اس کا کوئی نام رکھوں۔ مذہب نہ رکھوں، اسے کسی قوم سے، کسی ملک سے منسوب نہ کروں اس سے صرف اتنا کہہ دوں کہ، بیٹا تو انسان ہے، انسان اپنے خمیر کا، اپنی تقدیر کا ، اپنی زمین کا خود خالق ہے۔ انسان ، قوم سے، ملک سے، مذہب سے بڑا ہے وہ اپنی روح تعمیر کر رہا ہے، تو ہم سے نیا ہے، اپنی جدت سے اس روح کو نئی سربلندی عطا کر، تیرے اور میرے درمیان باپ بیٹے کا رشتہ نہیں ہے۔ تیرے اور میرے درمیان صرف محبت کا رشتہ ہے، جیسے سمندر لہرے، اور آگ شعلے سے اور ہوا جھونکے سے ملتی ہے اسی طرح میں اور تو اس دنیا میں آکے مل گئے ہیں۔ اور ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کی تعمیر کر رہے ہیں۔
بچہ انگوٹھا چوس رہا ہے۔ اور میری طرف حیرت سے دیکھ رہا ہے۔
کرشن چندر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے