میکشوں میں وہ اضطراب نہیں

میکشوں میں وہ اضطراب نہیں
کون اے دوست باریاب نہیں
بار دنیا نہ اٹھ سکا تو کیا
زندگی میرا انتخاب نہیں
دل کی تسکیں بھی چاہتا ہوں میں
میرا مقصد فقط جواب نہیں
اک نہ اک چیز کی کمی ہی رہی
کبھی ساغر کبھی شراب نہیں
دل کو کیونکر فریب دیں باقیؔ
غم حقیقت ہے کوئی خواب نہیں
باقی صدیقی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے