میں تو بیٹھا تھا ہر اک شے سے کنارا کر کے

میں تو بیٹھا تھا ہر اک شے سے کنارا کر کے
وقت نے چھوڑ دیا مجھ کو تمھارا کر کے
بات دریا بھی کبھی رک کے کیا کرتا تھا
اب تو ہر موج گزرتی ہے اشارہ کر کے
اِک دیا اور جلایا ہے سحر ہونے تک
شبِ ہجراں کا ترے نام ستارا کر کے
جب سے جاگی ہے ترے لمس کی خواہش دل میں
رہنا پڑتا ہے مجھے خود سے کنارہ کر کے
دشت! چھانے گا تری خاک محبت سے سعیدؔ
عشق! دیکھے گا تجھے سارے کا سارا کر کے
مبشّر سعید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے