میں تیرے ساتھ چل نہیں سکتا

میں تیرے ساتھ چل نہیں سکتا
تو رویہ بدل نہیں سکتا
آے درویش گر جلالی میں
پھر یہ سورج نکل نہیں سکتا
راز مٹی میں ہے کوئی شاید
دھوپ میں پیڑ جل نہیں سکتا
دس کو پالے ہے باپ تنہا ہی
دس سے اک باپ پل نہیں سکتا
تیرے آنسو فضول ہیں طارق
اب یہ پتھر پگھل نہہیں سکتا
طارق جاوید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے