میں تیرے ہجر میں یوں بھی دہائی دیتا نہیں

میں تیرے ہجر میں یوں بھی دہائی دیتا نہیں
زمیں کا شور فلک پر سنائی دیتا نہیں

عجب تلاش کے سرکل میں گھومتے ہوئے لوگ
کسی کے پاؤں کو رستہ سجھائی دیتا نہیں

ہمیں جلا کہ ضرورت ہے روشنی کی تجھے
انھیں دکھا کہ جنھیں کچھ دکھائی دیتا نہیں

زمیں کی سالگرہ پر میں خاک بانٹتا ہوں
کسی کو ورنہ میں اپنی کمائی دیتا نہیں

سمے نچوڑ کہ دو چار پل ملیں تجھ سے
گھڑی کا ہجر تو اتنی رسائی دیتا نہیں

پرانی جڑ سے نکلتا ہے شاخِ نو کا وجود
تبھی تو میر کا حلقہ رہائی دیتا نہیں

یہ کس وصال کی زنجیر سے بندھی ہوئی ہے
ہماری ناؤ کو دریا رہائی دیتا نہیں

منیر جعفری

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے