میں سوکھا پیڑ اور اس کی ہری بھری باتیں

میں سوکھا پیڑ اور اس کی ہری بھری باتیں
بڑھا گئیں مرا احساس – کمتری باتیں
ہم اس لئے بھی الگ بیٹھ کر رہے چپ چاپ
ہمارا دوسرا چکر تھا دوسری باتیں
سب اس کے حجرے میں سنتے ہیں گفتگو اس کی
یوں اس کی پھیل رہی ہیں قلندری باتیں
میں ایک جست بھری اور نکل گیا آگے
بناتی رہ گئی ساری برادری باتیں
پرندگان نے اپنی غزل سنانی تھی
وگرنہ پھول بھی کرتے ہیں رس بھری باتیں
جب اس نے اتنا کہا مجھ سے ،،، بول کچھ تو بول
سنا کے آگیا میں بھی کھری کھری باتیں
نششست اپنی اٹھاتا ہوں جب بھی رستے سے
لپٹ کے کرتی ہے مجھ سے مری دری باتیں
کنارا غور سے سنتا ہےجب بھی کرتے ہیں
تمہارے بارے میں ،،، میں اور جل پری باتیں
میں ایک وار سے دو گردنیں اڑاتا تھا
مرے خلاف بھی کرتے تھے لشکری باتیں
عاطف کمال رانا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے