میں سمجھا تھا ذرا سا مختلف ہے

میں سمجھا تھا ذرا سا مختلف ہے
مگر وہ اچھا خاصا مختلف ہے
مجھی سے ہی شکایت کس لیے ہے
ترا بھی تو رویہ مختلف ہے
اسے آخر بتانا پڑ گیا تھا
جو ہوتا ہے وہ لگتا مختلف ہے
بچھڑتے وقت اس نے یہ کہا تھا
ترا مجھ سے قبیلہ مختلف ہے
مرا دل اور ساگر مختلف ہیں
مری آنکھوں کا دریا مختلف ہے
کبھی آ مل کے دیکھیں آئینے میں
کھلے گا ہم میں کیا کیا مختلف ہے
مرا تم سے تعلق مختلف تھا
مگر لوگوں نے سمجھا مختلف ہیں
مرا ہونا نہ ہونا ہے برابر
ترا ہونا نہ ہونا مختلف ہے
جو لوگوں نے بتایا سب غلط تھا
ترا یکسر سراپا مختلف ہے
صغیر اس کی ہیں آنکھیں بھی غضب کی
اور اس پر یہ کہ ہنستا مختلف ہے
صغیر احمد صغیر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے