Mein Raigzaar Tha

میں ریگ زار تھا چمک اٹھا درِ حضور سے
مدام ہے جو فیض بھی ملا درِ حضور سے

کہ بے مراد و بے ثمر نہیں ہے اب مرا شجر
مری دعاؤں کا ہے سلسلہ درِ حضور سے

بھٹک رہی ہے کیوں یہاں وہاں زمیں ، زمان میں
ہر ایک ہوگا حل معاملہ درِ حضور سے

یہ لطف آرہا ہے جو مناظرِ حیات میں
ہوئی مری نگاہ آئنہ درِ حضور سے

جھجک رہے ہیں راستے میں اس لئے مرے قدم
کہ مٹ رہا ہے میرا فاصلہ درِ حضور سے

دریچہ ء گمان کِھل اٹھا درود کے سبب
غبار چھٹ گیا نگاہ کا درِ حضور سے

سحاب رحمتوں کا ہو مدام اس پہ عمر بھر
بلال جس کا بھی ہو واسطہ درِ حضور سے

بلال اسعد سیالکوٹ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے