میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا

میں پا سکا نہ کبھی اس خلش سے چھٹکارا

وہ مجھ سے جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہارا

برس کے کھُل گئے آنسو، نتھر گئی ہے فضا

چمک رہا ہے سرِ شام درد کا تارا

کسی کی آنکھ سے ٹپکا تھا، اک امانت ہے

مری ہتھیلی پہ رکھا ہوا یہ انگارا

جو پر سمیٹے تو اک شاخ بھی نہیں پائی

کُھلے تھے پر تو مرا آسمان تھا سارا

وہ سانپ چھوڑ دے ڈسنا یہ میں بھی کہتا ہوں

مگر نہ چھوڑیں گے لوگ اُس کو گر نہ پھنکارا

جاوید اختر

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے