میں نے سوچا کچھ ایسا نصاب لکھتے ہیں

میں نے سوچا کچھ ایسا نصاب لکھتے ہیں
میرا عنوان تم ہو ایسی کتاب لکھتے ہیں
جو اس نے کہا،جو أس نے پوچھا
جلنے والوں کے سب سوالوں کا جواب لکھتے ہیں۔
جو بیاں نہ ہووے ہو حقیقت میں
وہ سب خیال وہ سارے خواب لکھتے ہیں
جو بیٹھے ہیں دائیں بائیں کندھوں پر
یہ میری جاں بس حساب لکھتے ہیں
ادب ملحوظ رکھتے ہے کچھ ایسے
ہم ہمیشہ انہیں جناب لکھتے ہیں
جو جیے جائے بن محبت کے چلو، تہمینہ
ایسے ویسوں کا خانہ خراب لکھتے ہیں
تہمینہ مرزا

اس پوسٹ کو شیئر کریں

One comment

زین چیمہ کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے