میں نے پوچھا کیسی لگتی ہے

میں نے پوچھا کیسی لگتی ہے
دسمبر کی مرے چہرے پربکھری چاندنی
وہ یہ بولا
جیسے چہرے پر ترے میری
محبت کی ہے لالی جیسے ڈوبے ہوں
وفا میں اپنے یہ بیتاب لمحے
جیسے بکھرے ہوں اندھیرے
اور جلتا ہو کہیں مٹی کا ننھا سا دیا
سرسراتی جیسے چلتی ہو ہوا
جیسے پانی دور تک پھیلا ہوا
جیسے بن بادل کہیں برسات ہو
ہے ترے چہرے پہ بکھری
اک معصوم سی حیا
مسکراتی سی نئی دل آویز صبح
جیسے میری آرزو کی چاندنی
جیسے میرے پیار میں لپٹی ہوئی سرخ
پھولوں سے لدی اور خوشبو میں بسی
تم یونہی آنکھوں میں میری روشنی
بن کر چمکتی ہی رہو
یونہی سندر تم سدا لگتی رہو
چودھویں کے چاند سی روشن رہو
میرے دل کی ملکہ بن کر
میرے بس دل میں رہو

دعؔا علی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے