میں نے مجھ سے کہا

میں نے مجھ سے کہا
(خود فراموش کو آخری بلاوا)
حال کیا پوچھتے ہو مرا
جب یہ ماضی بنے گا تو میں تم سے پوچھوں گا
کیا حال ہے!
کتنی مدت ہوئی
تم نے مجھ کو اُچٹتی نظر سے زیادہ نہ دیکھا
جو اَب سن رہے ہو تو کہہ دوں وہ باتیں
جو کہنے کی حسرت لیے میں ہمیشہ قدم تیز کرتا رہا
پیچھے پیچھے تمہارے، میں بچہ سا چلتا رہا
تم نے مڑ کر نہ پوچھا میں کیا چاہتا تھا
میں آزادیوں کا طلب گار تھا
تم نے زنجیر ڈالی
میں لفظوں کا رسیا تھا، تم نے مجھے
ہندسوں کے اُلجھتے ہوئے جال میں باندھ رکّھا
مرے خواب، بچّے کی حیرت، محبت تھے
اندر کی آواز پر رُخ بدلنا
کہیں جا نکلنا
کسی کی محبت بھری بات کے زاویے کھوجنا
اور دریا کنارے
کتابوں کی گہرائی میں ڈوب کر
اک تحیُّر کے دو گھونٹ بھرنا
مرے خواب تھے، اور تم؟
تم حقیقت میں کھوئے ہوئے بھول بیٹھے
کہ دنیا کے جنگل میں خوابوں کی سمتیں تو کیا
لوگ آنکھیں بھی کھو بیٹھتے ہیں
سُنو! تم جہاں بھاگتے ہو، وہاں کوئی منزل نہیں ہے
یہاں کوئی منزل نہیں ہے!
تمہاری کئی سال کی بے رُخی سے میں کم زور ہوں
اور تم آج بھی تیز رفتار ہو
دیکھو! لحظہ بہ لحظہ تمہارے قدم کی
یونہی دور ہوتی ہوئی چاپ سُنتا رہا
تو میں چپ چاپ مر جاؤں گا
اور تم کو خبر بھی نہ ہوگی
کہاں کون تم سے جدا ہو گیا
صرف حسرت رہے گی
شب و روز حسرت تمہارے جلو میں چلے گی
شہزاد نیّرؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے