میں نے کائنات کو تشکیل پاتے دیکھا

کچھ نظمیں ہم لکھتے ہیں اور کچھ ہم پہ گزرتی ہیں ۔۔مجھ پہ گزری ہوئی اک نظم ۔۔۔کہ میں نے کائنات کو تشکیل پاتے دیکھا۔

جب زمیں و زماں کی سبھی وسعتیں میرے ہونے کے دم سے بھری تھیں تو تب۔۔
میرے آدھے بدن میں نے دیکھا تمہیں۔۔۔۔
میری روح کے کواڑوں پہ دستک تیری۔۔۔چیختی تھی تو بام فلک پہ تبھی ۔۔۔
گونجتا تھا کہیں کن کا حرف امر۔۔۔
سارا عالم تھا ہم دو کا دیکھا ہوا
میں نے اب سے نہیں، تب سے دیکھا وہ پل
اک سیارے کے کونے پہ تھا اپنا گھر۔۔
آسمانوں کی کھیتی میں بو کر شمس۔
کاٹتے تھے ستاروں کے خوشوں کا تن۔۔۔
ہم خلا کے اندھیرے پیالے میں تب۔۔۔
بھر کے پیتے تھے زہرہ کا رنگیں بدن۔۔
کیا تمہیں یاد ہے۔۔؟؟کن کا پہلا وہ دن؟؟
جب ملے تھے وہاں اپنے آدھے بدن۔۔۔ !!!

مریم مجید

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے