میں نے بھی اس سے ہاتھ ملایا تھا

میں نے بھی اس سے ہاتھ ملایا تھا اور بس
وہ شخص میرے خواب میں آیا تھا اور بس

وہ پیکرِ جمال بھی اک شاہکار تھا
فرصت میں جس کو رب نے بنایا تھا اور بس

دل کی تمام دھڑکنیں بہکی ہوئی سی تھیں
سارا خمار اس نے چڑھایا تھا اور بس

میں نیند میں بدل نہ لوں کروٹ اسی لئے
سینے سے اس نے مجھ کو لگایا تھا اور بس

دامن چھڑا کے جانے کو تیار تھا وہ شخص
میں نے پکڑ کے پاس بٹھایا تھا اور بس

 تسلیم اکرام

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے