میں نہ رانجھا نہ مجھے ہیر کا دکھ

میں نہ رانجھا نہ مجھے ہیر کا دکھ
کس پہ کھلتا مری تحریر کا دکھ
میرے لفظوں میں نمی ہے اپنی
میرے شعروں میں نہیں میرؔ کا دکھ
سانس لیتی ہوئی گردن کی چمک
زنگ لگتی ہوئی شمشیر کا دکھ
سات رنگوں کی سمجھ سے باہر
آٹھواں رنگ ہے تصویر کا دکھ
مر چکا ہوں تو مَیں سمجھوں کیسے
بین کرتی ہوئی ہمشیر کا دکھ
پاؤں کاٹوں اسے آزاد کروں
کچھ تو کم ہو مری زنجیر کا دکھ
میرے سینے میں ترازو ہو کر
بڑھ بھی سکتا ہے میاں تیر کا دکھ
دکھ کو سہنا کوئی آسان نہیں
اور پھر خاکِ ہمہ گیر کا دکھ
ایک ٹھہرے ہوئے منظر کا خمار
ایک کھینچی ہوئی تصویر کا دکھ
یہ براہیم سمجھ سکتا ہے
کتنا جاں سوز ہے تکبیر کا دکھ
ہوں میں کس دائرۂ وقت میں زیبؔ
کوئی عجلت ہے نہ تاخیر کا دکھ
اورنگ زیبؔ

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے