میں محبت ہوں تو محبت ہے

میں محبت ہوں تو محبت ہے
اس لیے چار سو محبت ہے

مشک بو مشک بو محبت ہے
پھول کی گفتگو محبت ہے

آ بسا ہے وہ میرے پہلو میں
اب مرا رنگ و بو محبت ہے

اب مرا عکس آئینے میں نہ دیکھ
اب ترے رو برو محبت ہے

آپ جنت سے آئے لگتے ہیں
آپ کی جستجو محبت ہے

اب عبادت کا لطف آئے گا
اب مرے قبلہ رو محبت ہے

ہو بہ ہو ہو بہ ہو نہیں کچھ بھی
ہو بہ ہو ہو بہ ہو محبت ہے

نخلِ سر سبز نے کہا مجھ سے
شاخ پر سرخ رو محبت ہے

ایک جنت ہے میرے سینے میں
جس کی ہر آب جو محبت ہے

جس عبادت کا اوج ہے معراج
اس کا پہلا وضو محبت ہے

جو میسر ہے اس کے ہونٹوں سے
اس کا اک اک سبو محبت ہے

خار سے خار کس طرح کھائے
ہر گلِ تر کی خو محبت ہے

علی صابر رضوی

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔