میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہے​


میں خود بھی سوچتا ہوں یہ کیا میرا حال ہے​
جس کا جواب چاہیے وہ کیا سوال ہے​

گھر سے چلا تو دل کے سوا پاس کچھ نہ تھا​
کیا مجھ سے کھو گیا ہے مجھے کیا ملال ہے​

آسودگی سے دل کے سبھی داغ دُھل گئے​
لیکن وہ کیسے جائے جو شیشے میں بال ہے​

بے دست و پا ہوں آج تو الزام کس کو دوں​
کل میں نے ہی بُنا تھا یہ میرا ہی جال ہے​

پھر کوئی خواب دیکھوں کوئی آرزو کروں​
اب اے دلِ تباہ ترا کیا خیال ہے​

جاوید اختر​

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے