میں کبھی دامِ محبت میں نہیں آیا ہوں

میں کبھی دامِ محبت میں نہیں آیا ہوں
اس لیے عالمِ وحشت میں نہیں آیا ہوں

گرمئی عشق کی لذت نہیں چھوٹی مجھ سے
دنیا داروں کی نصیحت میں نہیں آیا ہوں

جنگ جیتے ہیں مرے دم سے ہی لشکر والے
میں کوئی مالِ غنیمت میں نہیں آیا ہوں

مے کدے میں مجھے کچھ دیر پڑا رہنے دو
میں ابھی اپنی طبیعت میں نہیں آیا ہوں

ہجر پہلے بھی کئی بار سہا ہے لیکن
میں کبھی اتنی مصیبت میں نہیں آیا ہوں

ملک عتیق

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے