میں جب احساس کے شہر میں پہنچا تو

میں جب احسا س کے شہر میں پہنچا تو
یہ جو احسا س ہے نا دنیا کا بنا یا ہوا اچھوتا گہر ا بہترین لفظ ہے احساس ہے تو سب کچھ ہے احساس نہیں تو کچھ بھی نہیں،یہی احسا س ہے جو انسان کو دلوں میں رہنے پر مجبور کرتا ہے، درست کہتے ہیں نفسیا ت دان کے احساس لفظ کی تشریح بہت وقت لیتی ہے۔اسی طرح احساس کو مان لینا بھی ایک بہت بڑی بات ہے ہم لو گ زندہ ہیں محسوس کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی چیزیں جو ہماری زندگی سے جوڑی ہو تی ہیں ان کا مقام ہماری زندگی میں بہت زیا دہ ہو تا ہے،جیسے کسی لکھاری کے لیے اس کی پہلی تحریر، کسی کی پہلی اجرت، اور جیسے کسی کی ادھوری خواہش جب پوری ہوتی ہے وہ لمحہ انسان کو ہمیشہ یا د رہتا ہے،اور بڑی بات یہ ہے وہ لو گ ان خوشیوں کو سنبھال کر رکھتے ہیں اور زندگی میں بارہا اس کا تذکرہ کر کے خوشی حاصل کر تے ہیں۔
میں بھی آج اسی لیے اس جو تا مارکیٹ میں پہنچا ہوں شاہ زیب کیونکہ میرا بھی احساس جڑا ہی کسی ایسی ہی چھوٹی سی چیز سے تمھیں یا د ہو گا میرے والد نے مجھے جو تے دلوائے تھے ہاں یہ وہی جو تے ہیں جو میرے والد نے بڑی مشکل سے دلوائے تھے کل میں وہ جوتے مرمت کروانے نکلا تھا کہ کسی نے وہ تھیلا ہی اُٹھا لیا اب سوچتا ہوں یہاں سے پتہ کروں کہ جوتے چو ر کہاں جوتے فروخت کرتے ہیں، چلو پھر پوچھ لیتے ہیں کسی سے شاہ نواز، پرانے لوگ بہت ساری پرانی باتیں یا د رکھتے ہیں یہ پھر وہ باتیں نئے لوگوں کے لیے بالکل ہو تی ہیں۔ بزرگو ! ذرا آپ بتا سکتے ہیں کہ جوتے چور کہاں اپنے جوتے فروخت کرتے ہیں ؟
بزرگ نے بڑی غور سے دونو ں کی شکل دیکھی اور کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد بتا یا کے اس مارکیٹ سے آگے تنگ گلی ہے اس سے آگے ہی ملے گا غفورا چور جو سب جانتا ہے کہ کس چور نے کب مال جمع کرایا۔بہت شکریہ بزرگو !
یار ایک با ت سمجھ نہیں آتی یہ چو ر جب چوری کرتے ہیں تو صرف چیزیں چوری نہیں کرتے بلکہ احساس چوری کرتے ہیں اور احساس کی چوری بہت تکلیف دیتی ہیں جیسے کہ اب تمہیں ہو رہی ہے، ہاں شاہ زیب تم ٹھیک کہتے ہو یہ احسا س کی چوری ہو ئی،جو واقعی تکلیف دے رہی ہے،بات کرتے کرتے وہ دونوں تنگ گلی سے باہر آچکے تھے اور اب وہ غفورا چور کو ڈھونڈ رہے تھے،پو چھتے پو چھتے وہ غفورا چور کی دوکان تک پہنچ گئے، دوکان میں ایک چھوٹا بچہ جس کی عمر تقریباً پندرہ سال ہے شاہ نواز نے بچے سے پوچھا کہ غفورا چور کدھر ہے ؟ بچے نے کہا بلاتا ہوں وہ اندر کی طرف گیا اور ایک پکی عمر کے شخص کے ساتھ باہر نکلا یہ رہا استا د غفورا، اسلام علیکم غفورا صاحب میرا نا م شاہ نواز ہے اور میں اپنے بوسیدہ جوتوں کی تلاش میں نکلا ہوں مارکیٹ میں ایک بزرگ نے آپ کے بارے میں بتایا تھا کہ آ پ جوتے چوروں سے اچھی طرح واقف ہیں۔ ہاں جی ہاں جی اس بستی کا بچہ بچہ مجھے جانتا ہے کہ غفورا چور کتنا کام کا آدمی ہے، خدا پا ک کی قسم میں نے تو کبھی چوری نہیں کی بستی کے سارے لوگ جانتے ہیں غفورا چور نہیں ہے۔ شاہ نواز نے شاہ زیب کی طرف دیکھا اور پھر غفورا چور کی طرف۔ لیکن آپ کو غفورا چو ر کیوں کہا جا تا ہے ؟ شاہ نواز نے پوچھا ! غفورا چور اس لیے کہ اس بستی میں پیدا ہوا ہوں یہاں پر سارے چور ہیں ایک دن بچپن میں دوکان سے سودا لینے گیا تو دوکاندار نے مجھے غفورا چو ر کہہ دیا پھر کیا تھا بستی کے سارے لوگ مجھے غفورا چور غفورا چور کہنے لگے۔ یہ تو بڑی کا م کی بات بتائی آپ نے غفورا صاحب ! شاہ نواز صاحب بتائیے کہ میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں، جی بالکل مجھے لگتا ہے اس بستی میں آپ ہی ہیں جو میری مدد کرسکتے ہیں ! شاہ نواز مسئلہ تو بتا یے۔ میں بتا تا ہوں شاہ زیب نے جلدی میں کہا۔ ہاں چلو آپ ہی بتا دو، شاہ نواز کے والد نے کئی سال پہلے جوتے خرید کے دیئے تھے،جو شاہ نواز کو بہت عزیز تھے۔
کل ان کی مر مت کرانے نکلا تھا کہ ایک چو ر وہ تھیلا ہی لے ک بھا گ گیا۔ میرے با پ سے میری بہت ساری یا دیں جوڑی ہیں اور وہ جوتے بھی انھی میں سے ایک ہے ٖغفورا صاحب اگر آپ میری مدد کریں گے تو میں آپ کو مشکور رہوں گا۔ شاہ نواز نے بھی کہا۔ کیوں نہیں شاہ نواز صاحب ضر ور میں مدد کروں گا اب ان جوتوں کا حلیہ بیان کر و، ٹھیک ہے بیان کر تا ہوں، شاہ نواز نے سوچتے ہوئے بتا یا ۔دیکھنے میں وہ جو تے بہت بو سیدہ ہیں ایک جو تے کی ایڑی نہیں ہے اور سامنے سے بھی کچھ خراب حالت ہے ان جوتوں کی۔شاہ نواز لگتا ہے چور نے تھیلے کے دھوکے میں جوتے چوری کر لیے ورنہ تو کو ئی چور ایسے جوتے چوری نہ کرئے۔ ہاں جی آپ درست کہتے ہیں جناب اسی لیے تو آیا ہوں کہ وہ کسی کے کا م نہیں آئے گے سوائے میرے، کیونکہ میرا رشتہ ہے ان جوتو ں سے،وہ جوتے مجھے میری اوقات اور میرے باپ کی تکلیف مجھے یا د دلاتے رہتے تھے۔آج جب بلندیوں تک پہنچا ہوں تو یا د رکھتا ہوں وہ بوسیدہ جوتے میرے مقدر میں تھے، میرا با پ مجھے ان بلندیوں تک دیکھنا چاہتا تھا، اور وہ جوتے پہلی کڑی رہے ہیں میری بلند ی کی۔۔۔۔
آہ،ٹھیک ہے شاہ نواز صاحب آپ رکیے ذرا کل کالا بولتا جا رہا تھا اور کوستا جا رہا تھا کسی امیر آدمی کو شا ئد آپ کے جو تے اس کے پا س ہو ں، تقریباً دس منٹ کے بعد غفورا چور دوبارہ ان کے سامنے تھا اور کالا اور شاپر دونوں بھی، ہاں بھئی کالے ذرا شاپر دکھا دے ان کے جوتے ہیں یہ۔ کالے نے شاپر دکھا یا تو وہی بوسیدہ جوتے جن کا حلیہ ابھی کچھ دیر پہلے شاہ نواز نے بیان کیا تھا سامنے تھے۔ ہاں ہاں یہی ہیں وہ جو تے۔ کالے نے شاپر ہا تھ میں دے دیا، اس کے چہر ے پر ما یوسی تھی کے یہ جو تے مہنگے نہ تھے جن کو وہ فروخت کر لیتا، وہ جا نے لگا تو شاہ نواز نے آواز دی کالے، کالا پلٹ آیا اور پوچھنے لگا کیوں روکا ہے مجھے شاہ نواز نے دس ہزار روپے اس کو تھما دئیے، اور کہا آج اگر یہ جو تے نہ ملتے تو شاید ہمیشہ اسے اس بات کی کمی محسو س ہوتی۔ شاہ نواز نے غفورا چور کا شکر یہ ادا کیا، غفورا چور نے کہا صاحب شکریہ تو مجھے آپ کا کر نا چاہیے آج پہلی مرتبہ کسی نے مجھے غفورا چور کے بجائے صرف غفورا کہا تھا، ورنہ ہمیشہ یوں لگتا تھا میں بھی اس بستی میں ایک چور ہوں،حالانکہ میں یہ بات جانتا ہوں کہ اس بستی کے چور صرف جوتا چوری کرتے ہیں۔وہ زندگی نہیں چھینتے کسی۔۔ شاہ نواز حیرت سے اس کا منہ تک رہا تھا، کیونکہ غفورا چور اتنی بڑی بات کتنی آسانی سے کہہ گیا تھا اس بات کا اندازہ اسے بھی نہیں تھا۔ اچھا غفورا صاحب ہمیں اجازت دیجیے پھر کبھی ضرور چکر لگاؤں گا آپ کی طرف،ضرور شاہ نواز صاحب ضرور آئیے گا، شاہ زیب جو ابھی تک چپ تھا،
کافی دیر چپ رہنے کے بعد بولا یا ر یہ بھی عجیب رنگ ہے آج مجھے یہاں آ کرے لگا کہ میں احسا س کے شہر میں آ پہنچا ہوں۔ میر ی بھی وہی سو چ ہے جو دنیا کے باقی لوگوں کی تھی۔ عام سی سوچ کا مالک تھا میں بھی،مجھے حیرت ہے میں سوچتا تھا چور انسان نہیں ہوتے محسوس نہیں کرتے، یا پھر وہ زندہ ہیں نہیں ہوتے جو لوگوں کو احساس سے محروم کرتے ہیں۔ ہاں تم درست کہتے ہوشازیب۔ لیکن وہ محروم ہوتے ہیں، جس طرح محروم کرنا تکلیف دیتا ہے اسی طرح محروم ہونا بھی تکلیف دیتا ہے۔
میمونہ احمد

اس پوسٹ کو شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے